ہنڈی یا ’’ٹی ٹی‘‘ کے ذریعے ترسیلِ زر کا حکم
سوال:
ہنڈی یا ٹی ٹی کے ذریعے ترسیلِ زر جائز ہے یا نہیں؟اس کی فقہی حیثیت کیا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو اس کا متبادل کیا ہوگا؟
جواب:
رقم کی ترسیل یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھیجنے کو عرف میں ہنڈی کہاجاتا ہے،اسی طرح الیکٹرانک ذرائع استعمال کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ملک سے دوسرے ملک رقم کی ترسیل کو عرف میں ’’ٹی ٹی‘‘ کہا جاتا ہے، ان دونوں کی فقہی حیثیت قرض کی ہے، اور ہنڈی یا ٹی ٹی کے ذریعے رقم بھجوانے کی صورت میں مندرجہ ذیل شرعی حکم کی رعایت کرنا لازمی ہے:
1. اگر ہنڈی یا ٹی ٹی کا کاروبار ایک ہی ملک میں ایک ہی کرنسی میں ہے تو ہنڈی یا ٹی ٹی کے کاروبار کرنے والے پر لازم ہو گا کہ جتنی رقم اس نے لی ہے اتنی ہی رقم وہ آگے پہنچا دے، اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے، البتہ رقم پہنچانے کے لیے اجرت کے طور پر الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جاسکتی ہے۔
2. کرنسیوں کے مختلف ہونے کی صورت میں رقم دیتے وقت اس ملک کی کرنسی کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق رقم متعین کی جائے گی اور وہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
لہذا اگر ان دو شرطوں کی رعایت رکھی جائے گی تو مذکورہ طریقے سے رقم ترسیل کرنا شرعًا جائز ہوگا، تاہم چوں کہ ہنڈی کا کاروبار ملکی وبین الاقوامی قوانین کی رو سے ممنوع ہے ؛ اس لیے رقم کی ترسیل کے لیے جائز قانونی راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل التاسع والعشرون في القرض...الخ ،5/ 394، ط:دارالكتب العلمية)