گنجے پن کو دور کرنے کے لیے سر پر ٹیٹو نما بال بنوانے کا حکم
سوال:
کیا گنجے پن کو دور کرنے کے لیے سر پر بالوں کی طرح دکھنے والے ٹیٹو نما بال بنواسکتے ہیں؟ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں گنجے پن کو دور کرنے کے لیے سرپر جو مشین کے ذریعہ سے دھبے دھبے سے بنائے جاتے ہیں ، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سرپر بال موجود ہیں جن کو مشین یا استرے کے ذریعہ صاف کیا گیا ہے تو مشین کے ذریعہ بالوں کی طرح دکھنے والے ایسے دھبےاور ٹیٹو نما بال بنانا جائز نہیں ہے ،کیوں کہ ایک تو اس عمل میں دھوکا دہی شامل ہے کہ دوسروں کو اس کے ذریعہ دھوکا دیا جاتا ہے کہ اس مذکورہ شخص کے سر پر بال موجود ہیں،حالاں کہ اس کے پورے سر پر بال موجود نہیں ہوتے، بلکہ کچھ سربالوں سے خالی ہوتا ہے جس پر دھبے سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور دوسرے اس میں خود کو بلا ضرورت تکلیف دینا ہے اور پھر اگر اس طرح دھبے اور ٹیٹو بنانے سے سر پر اس کی تہہ جم جاتی ہو تو اس صورت میں اس سے وضو اور غسل بھی نہیں ہوگا اور اگر اس کی تہہ نہ جمی ہوتو اس صورت میں اگرچہ وضو اور غسل تو ہوجائے گا،لیکن تب بھی گدوانے کی ممانعت کی وجہ سے یہ عمل جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ حدیث شریف کی رو سے اس طرح جسم گدواکر ’’ٹیٹو‘‘ بنوانے والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے، لہٰذا اگر کسی نے جسم کو گدواکر اس پر ٹیٹو بنوا رکھے ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کرے، اور اگر اسے زائل کرنا ممکن ہو تو بذریعہ علاج جسم سے اسے ختم کروائے، موجودہ دور میں اسے جدید طریقہ علاج سے مشقت کے بغیر زائل کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے ۔ (مشکاۃ شریف، كتاب اللباس ، باب الترجل ، الفصل الأول، 394/2 ،ط: رحمانية - فتح الباری، كتاب اللباس، باب المتفلجات للحسن، 372/10، ط: دار المعرفة - فتاوی شامی، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب في حكم الوشم، 330/1، ط: سعيد)