کیری سے سامان کلیئر کرانے کا حکم
سوال:
اگر کوئی سامان امپورٹ کرتے ہیں تو کسٹم ڈیوٹی دینی پڑتی ہے جو کہ کافی زیادہ ہے اور اگر یہی سامان ہم کیری carry منگوائیں تو ہم کو کسٹم ڈیوٹی کے مقابلہ میں کیری والے بندہ کو کم رقم دینا ہوتی ہے، ممکن ہے اس کا مال کو کلیئر کروانے کا طریقہ غلط ہو، مگر ہم اس کو رقم دیں گے اور وہ ہمیں سامان دے گا تو اس صورت میں کیری والے سے کام کرنا درست ہے ۔
نوٹ: ایک یونٹ پر دو سو روپے کی بچت ہوتی ہے لہذا اکثر لوگ کیری سے کام کرتے ہیں جب ہی مارکیٹ میں ان کا ریٹ سستا اور کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے والوں کا مہنگا ہوتا ہے، جس سے خریدار متوجہ نہیں ہوتا کہ ایک چیز پر دو سو روپے کا فرق ہے۔ (یعنی جو کیری سے منگواتا ہے وہ سستی فروخت کرتا ہے اور کسٹم ڈیوتی ادا کرتا ہے وہ مہنگی فروخت کرتا ہے۔)
جواب:
اگر کیری کرنے والے شخص سے متعین اجرت کے بدلے میں مال پہنچانے کا معاہدہ ہوجائے ، اور وہ مال پہنچادے تو اس کے ذریعے سامان منگوانا جائز ہے، باقی کیری والے کس طرح مال لاتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے، اگر سامان لاتے ہوئے کوئی غیرشرعی کام کرتے ہیں تو اس کا وبال ان ہی پر ہوگا۔