بچوں کے مالی معاملات کا حکم
سوال:
بچوں کے لین دین کے متعلق تحقیق درکار ہے۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں!
جواب:
بچہ اگر ناسمجھ ہے تو اس کے تمام قولی تصرفات باطل ہیں، چاہے مفید ہوں یامضر ہو ں یا نفع و نقصان دونوں کا احتمال رکھتے ہوں اور چاہے ولی کی پیشگی اجازت کے ساتھ تصرف سر انجام دیا ہو یا بعد میں ولی کی اجازت حاصل ہوئی ہو اور چاہے بچہ اجازت یافتہ ہو یا نہ ہو اور اگر اجازت یافتہ ہو تو اسے عام اجازت ہو یا خاص اجازت ہو۔
سمجھ دار بچہ ایسے افعال عمل میں لا سکتا ہے جو کلیۃً اس کے حق میں مفید ہو ں جیسے ہبہ وغیر ہ قبول کرنا اگرچہ اس کے ولی کی رائے نہ ہو لیکن ایک بچہ اپنے ولی کی اجازت کی سا تھ یا بلا اجازت کوئی ایسا تصرف نہیں کر سکتا جو سراسر نقصان دہ ہو جیسے اپنی بیوی کو طلاق دینا یا اپنی جائیداد ہبہ یا وقف کرنا۔
ایسے معاملات جن میں منع اور نقصان دونوں کا امکان ہو جیسے خرید و فروخت شریعت ایسے بچے میں جو سمجھ دار ہو اور جو نا سمجھ ہو فرق اور تمیز کرتی ہے۔
اگر بچہ سمجھ دار ہے تو وہ ایسے معاملات اپنے ولی کی رضامندی کے ساتھ کر سکتا ہے اور وہ جائز متصور ہو ں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ گویا وہ خود ولی کی کاروائی تھی جو بچے کی طرف سے کی گئی تھی ۔ بچے میں تمیز ہونے یا نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ آیا وہ خرید و فروخت اور فائدہ و نقصان کے معنیٰ سمجھتا ہے یا نہیں ۔اگر معاملہ نفع و نقصان کے درمیان دائر ہو تو ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اور ولی کو اختیار حاصل ہوگا کہ اگر بچے کے حق میں مفید سمجھے تو اجازت دے ورنہ اجازت نہ دے ۔