چوری شدہ مال کا مالک معلوم نہ ہو تو اس سے بری الذمہ ہونے کا طریقہ



سوال:
ایک شخص اسکول کے ہاسٹل میں پڑھتا تھا اور اس نے اپنے کسی ساتھی کے دو موبائل فون چوری کرلیے ، بعد میں قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کی تو اسے احساس اور خوفِ آخرت ہوا اور وہ واپس کرنا چاہتا ہے لیکن نہ تو صاحب حق کا پتہ ہے اور نہ اس کے خاندان کا تو اب اسے کیا کرنا چاہیے کہ فراغ الذمہ ہوجائے ؟
 
جواب:
صورت ِ مسئولہ ميں مذكوره شخص كو چاہیے  كہ سب سے پہلے اس گناه پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار كرے، اور اس كے بعد   مذکورہ چوری  کئے  ہوئے موبائل جس شخص کے تھے ، اس کو کسی طرح  تلاش كرنے کی کوشش کرے ،  اگر وہ زندہ ہو تو اس کو، ورنہ اس کے ورثاء كو  وہ موبائل اگر موجود ہو تو دےدے اور اگر موجود نہ ہو تو اس کی قیمت پہنچادے، لیکن اگر تلاش کے باوجود  حق دار اور  اس کے ورثاء نہ مل سکیں تو  ایسی صورت میں اس رقم کو   اصل مالک کی نیت سے مستحق زکوٰۃ شخص کو  صدقہ کردے۔