عقیقہ کرنے کی مدت



سوال:
میری ایک بچی کی عمر دس سال ہےاور بیٹے کی عمر سات سال ہے، میں ان کی پیدائش کے بعد عقیقہ نہیں کرسکا،اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا میں اب ان کا عقیقہ کر سکتاہوں؟
 
جواب:
پیدائش کے ساتویں یاچودہویں یااکیسویں  روز عقیقہ کرنا مستحب ہے،اگر اکیسویں روز بھی عقیقہ نہ کر سکيں تو اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے، تاہم جب بھی عقیقہ کیاجائے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کریں،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اب بھی اپنےبچوں کا عقیقہ کرنا چاہےتوپیدائش کےدن کےحساب سے ساتویں دن عقیقہ کرےتوزیادہ بہترہے،یعنی جب بھی عقیقہ کیاجائے تو بچوں کی پیدائش کےساتویں دن کے حساب سےکرنےکی کوشش کرے،مثلاًاگربچہ جمعہ کےدن پیداہواتو جمعرات کےدن عقیقہ کیاجائے،اگرہفتہ کےدن پیداہوا ہوتوجمعہ کےدن عقیقہ کیاجائے۔ (فيض الباری شرح صحيح البخاری، کتاب العقیقہ، باب اماطۃ الاذی عن الصبی ،648/5،ط:دارالکتب العلمیۃ - (اعلاء السنن، کتاب الذبائح، باب افضلیۃ ذبح الشاۃ فی العقیقہ، ط: ادارة القرآن والعلوم الاسلامیۃ - فتاوی شامی، کتاب الاضحیۃ،336/6، ط: سعید)