طلاق کے معاملے میں ہرمسلمان مدعی ہوسکتا ہے
سوال:
میرے ایک عزیز نے اپنی بیوی کو طلاق دی مگر اب وہ اسے مانتے نہیں ہیں حالانکہ میرے سامنے دی ہے۔میں جب ان سے اس کاذکر کرتا ہوں تو ناراض ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میرا نجی معاملہ ہے ۔آپ کو اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے ۔کیا میں غلطی پر ہوں یا وہ میری بات کو اہمیت دیں۔اگر درست نہیں ہوں تو میں اس کا ذکر چھوڑ دوں گا؟
جواب:
لین دین وغیرہ کے معاملات میں حق دار کو بولنے اور دعوی کرنے کا حق ہوتا ہے ،صاحب حق اپنا حق لینے اور چھوڑنے کا مجاز ہوتا ہے لیکن طلاق کا تعلق حقوق اللہ سے ہے ۔حقوق اللہ اس پہلو سے حقوق العبد سے مختلف ہوتے ہیں کہ حقوق اللہ میں ہر مسلمان مدعی ہوسکتا ہے ،اس لیے آپ سمیت جس مسلمان کے علم میں یہ واقعہ ہو وہ اس کانوٹس لے سکتا ہے۔ بہرحال اصولی طورپر آپ حق پر ہے اور آپ کے عزیز کی ناراضگی بے جا ہے۔نہی عن المنکر کے پہلو سے بھی آپ کی مداخلت درست ہے؛ کیوں کہ اگر کہیں کوئی برائی ہورہی ہے تو ہرمسلمان پر مقدور بھر اس کاازالہ واجب ہے۔میں نے لکھا کہ اصولی طورپر آپ کا رویہ درست ہے۔یہ لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اگر آپ کے عزیز نے تین سے کم طلاقیں دی ہیں تووہ رجوع کرکے یا تجدید نکاح کرکے اپنے رشتے کو بحال کرسکتے ہیں۔