عاشوره كے روزے كاثبوت واہمیت



سوال:
کیا عاشورہ کار وزہ ثابت ہے اور اس میں ثواب ہے؟
 
جواب:
عاشورہ کا روزہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے ثابت ہے، اس کی فضیلت بھی احادیثِ مبارکہ میں وارد ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، البتہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ یہود بھی عاشورہ کے روزے کا اہتمام کرتے ہیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عاشورہ  کے روزہ کے ساتھ نو محرم کو  بھی روزہ  رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا جس کی بنا پر فقہاءِ کرام نے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے اور  مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو مکروہِ  تنزیہی قرار دیا ہے، لہٰذا دس محرم کے روزے کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔ اور اگر دو روزے نہیں رکھ سکتے تو کم سے کم دس محرم کا ایک روزہ چھوڑنا نہیں چاہیے۔
محرم الحرام کا پورا مہینہ ہی قابلِ احترام  اور عظمت والا مہینہ ہے،  یومِ عاشورہ کے علاوہ  اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے  بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔ (صحيح مسلم ١١٦٣)
اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : جو  شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا  تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو  شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔  )المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٢/١٢٩  إسناده لا بأس به  أخرجه الطبراني (١١/٧٢) (١١٠٨١)، وفي المعجم الصغير (٩٦٣)