پلاٹ تعمیر کرنے کے لیے پیسے نہ ہونے کی صورت میں ایک تدبیر



 
سوال
میرے پاس 12 مرلہ زمین ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس پرمکان تعمیر کروں، لیکن پیسے نہیں ہیں،  اس لیے ایک دوست سے مشارکہ پر اسے آباد کرنا چاہتا ہوں،  مہربانی ہوگی اگر مشارکہ کا طریقہ و اصول سے آگاہ فرماویں!
 
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کی زمین پر مکان کی تعمیر  کرنے کے لیے شرکت کا معاملہ کرنا درست نہیں ہے، البتہ جائز صورت یہ ہوسکتی  ہے، کہ کسی کو مکان تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دیدے اور اس کی رقم مقرر کرے، جب مکان تعمیر ہوجائے تو یا تو اس کو اجرت کی رقم ادا کردے اور اگر رقم کا انتظام نہیں ہے، تو اجرت کی رقم کے  بدلے  تعمیر شدہ مکان کا کچھ حصہ دیدے تو یہ جائز ہوگا، البتہ شروع سے یہ کہنا  کہ آپ جو مکان تعمیر کریں گے اس کا مثلاً آدھا حصہ اجرت ہے یہ درست نہیں ہے۔  (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:56، ط:سعيد- فتاوی ہندیہ، كتاب الإجارة، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز ، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه، ج:4، ص:444، ط:دار الفكر- فتاوی تاتارخانیہ، كتاب الإجاره،فصل في قفيز الطحان و ما في معناه، ج:15، ص114،115، ط:مكتبة زكريا بديوبند)