مکان کرایہ پر دیا ہوتو قربانی واجب ہے یا نہیں؟



سوال:
قربانی کے واجب ہونےکے لیے ضرورت سے زائد سامان میں کرایہ کا مکان بھی آتا ہے ؟یعنی اگر کسی کے پاس مکان ہو جو اس نے کرایہ پر دیا ہو تو کیا اس کی وجہ سے مالک مکان پر قربانی واجب ہوگی؟
 
جواب:
جس شخص کے پاس بنیادی ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا  مذکورہ شخص  جس نے اپنا مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے یہ شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ،اس پر ایک حصہ  یا چھوٹا جانور قربان کرنا واجب ہے؛ کیوں کہ کرایہ پر دی ہوئی چیز جب تک کرایہ پر ہے حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے ۔ فتاوی رحیمیہ میں ہے :
"ایک ہی مکان ہے اس کو کرایہ پر دیا ہے تو اس کی قیمت کا اعتبار ہے یا نہیں ؟
(سوال ۲۰)جس کے پاس ایک ہی مکان ہو،  لیکن اس میں خود نہیں رہتا ہے کرایہ پر دے رکھا ہے اور وہ خود کرایہ کے گھر میں رہتا ہے تو قربانی کے متعلق مال داری  میں اس گھر کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟
(الجواب)اپنا گھر چاہے کرایہ پر دیا ہو یا مفت یا خالی پڑا ہو اورخود د وسرے مکان میں کرایہ پر رہتا ہے یا مفت ہر ایک صورت میں قربانی اور فطرہ کے متعلق مال داری میں اس مکان کی قیمت کااعتبار ہوگا؛ کیوں کہ یہ مکان فی الحال حاجت اصلیہ سے زائد ہے ۔" (فتاوی رحیمیہ 10/31دارالاشاعت۔  نیز قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، ص:136بیت العمارکراچی)