نابالغ کا ہبہ
سوال:
میں پیشہ وکالت سے وابستہ ہوں اور ایک ملکی قانون کوفیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔ایک قانون داں ہونے کی حیثیت سے متعلقہ قوانین اور نکات پر میری نظر ہے مگر مجھے شرعی پہلو سے اطمینان درکار ہے کیونکہ متعلقہ فورم شرعی عدالت ہے۔مسئلہ نابالغ کے ہبہ کا ہے وہ ہبہ کا مجاز ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس قدر ہے،اس سلسلے میں مجھے آپ کی شرعی تحقیق درکار ہے؟امید ہے ممنون فرمائیں گے۔
جواب:
ازروئے شرع اگر بچہ ناسمجھ ہے تو اس کے تمام قولی تصرفات باطل ہیں ، چاہے مفید ہوں یامضر ہو ں یا نفع و نقصان دونوں کا احتمال رکھتے ہوں، چاہے ولی کی پیشگی اجازت کے ساتھ بچے تصرف سر انجام دیا ہو یا بعد میں ولی کی اجازت حاصل ہوئی ہو اور چاہے بچہ اجازت یافتہ(ماذون ) ہو یا نہ ہو اور اگر اجازت یافتہ ہو تو اسے عام اجازت ہو یا کسی معلوم اور متعین مال کو ہبہ کرنے کی اسے اجازت ہو۔
بچہ اگر سمجھ دار ہے تو وہ ایسے افعال عمل میں لا سکتا ہے جو کلیۃً اس کے حق میں مفید ہو ں جیسے ہبہ وغیر ہ قبول کرنا ،اگرچہ اس کے ولی کی رائے نہ ہو لیکن ایک بچہ اپنے ولی کی اجازت کی سا تھ یا بلا اجازت کوئی ایسا تصرف نہیں کر سکتا جو سراسر نقصان دہ ہو جیسے اپنی بیوی کو طلاق دینا یا اپنی جائیداد ہبہ یا وقف کرنا ۔
ایسے معاملات جن میں نفع اور نقصان دونوں کا امکان ہو جیسے خرید و فروخت تو شریعت ایسے بچے میں جو سمجھ دار ہو اور جو نا سمجھ ہو فرق اور تمیز کرتی ہے۔اگر بچہ سمجھ دار ہے تو وہ ایسے معاملات اپنے ولی کی رضامندی کے ساتھ کر سکتا ہے اور وہ جائز متصور ہو ں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ گویا وہ خود ولی کی کاروائی تھی جو بچے کی طرف سے کی گئی تھی۔ بچے میں تمیز یعنی سمجھ ہونے یا نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ آیا وہ خرید و فروخت اور فائدہ و نقصان کے معنیٰ سمجھتا ہے یا نہیں ۔اگر معاملہ نفع و نقصان کے درمیان دائر ہو تو ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اور ولی کو اختیار حاصل ہوگا کہ اگر بچے کے حق میں مفید سمجھے تو اجازت دے ورنہ اجازت نہ دے ۔
اس مسئلے کی مزید تحقیق یہ ہے کہ عقل مند بچہ اس حثییت سے بالغ کے مانند ہے کہ و ہ عقل و فہم اور تمیز رکھتا ہے اور اس لحاظ سے بالکل نا سمجھ بچے کی طرح ہے کہ شرعی خطاب اس کی طرف متوجہ نہیں اور اس کی عقل میں نقص ہے یہی وجہ ہے کہ دوسرے کو اس پر ولایت حاصل ہوتی ہے پس خالص نفع بخش معاملات میں اس کا حکم بالغ کا ہے اور سراسر نقصان دہ معاملات میں وہ بچے کی طرح ہے اور جو معاملات نفع و نقصان دونوں کا امکان رکھتے ہیں ا ن میں اگر ولی کی اجازت نہ ہو تو اس کا حکم بچے کا ہے ا ور اگر اجازت ہو تووہ بالغ کی طرح ہے کیوں کہ اجازت دلیل ہے کہ نفع کا پہلو نقصان پر غالب ہے اور اجازت سے پہلے معاملہ منعقد توہوگا مگر ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا کیونکہ اس میں اس کا فائدہ ہے اس طرح وہ تجارتی طور طرق کو جان لے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ نابالغ کا ہبہ نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اجازت پرموقوف ہے ۔
نابالغ کے تمام قولی تصرفات کالعدم ہیں اگر چہ ولی کی اجازت کی ساتھ ہو اگرولی بعد میں اجازت دے دے تو بھی درست نہیں کیونکہ باطل تصرفات درست نہیں ہو سکتے۔
نابالغ نے اگر اپنے والد کی اجازت سے اپنا کچھ مال صدقہ کیا تو جائز نہیں اور نابالغ کو اپنا مال واپس لینے کا حق ہوگا اور یہ صدقہ فقیر کے لیے بھی حلال نہ ہوگا۔
باپ کے لیے جائز نہیں کہ مفت میں یا عوض کے بدلے اپنے نابالغ بیٹے کے مال سے کچھ ھبہ کرے کیونکہ ہبہ ابتدائی طور پر تبرع ہے ۔
نابالغ کو ملنے والے ہبہ کے بدلے اگر نابالغ باپ نے اس کے مال سے واہب کو عوض دیا تو جائز نہیں ۔
نابالغ کو ہبہ میں کچھ ملا اور نابالغ کے باپ یاوصی نے نابالغ کے مال سے واہب کو عوض دے دیا تو جائز نہیں؛ کیوں کہ عوض دینا ابتدائی طور پر تبرع ہے، جب معاوضہ دینا باطل ٹھہرا تو واہب کو اپنے ہبہ سے رجوع کا اختیار ہوگا، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عوض کا کوئی مستحق نکل آئے تو واہب کو رجوع کا حق ہوتا ہے بشرطیکہ موہوب موجود ہو اور اس میں کچھ مالی اضافہ نہ ہوا ہو۔
ایک شخص نے دوسرے کو دہی ہدیہ بھیجا پھر معلوم ہوا کہ یہ دہی اس نابالغ کی گائے کی دودھ کا ہے تو جائز نہیں اور دودھ کے دہی بنا دینے سے باپ اس کا مالک نہیں ہو جائیگا۔ اسی طرح اگر باپ نے نابالغ کو اس کا عوض دیا تو جائز نہیں ہے۔
نابالغ ہدیہ لایا اور کہا کہ میرے باپ نے آپ کو ہدیہ بھیجا ہے تو اس کو کھانا جائز ہے لیکن اگر اس کے دل میں آئے کہ یہ جھوٹا ہے تو کھانا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات:مجلہ مادۃ ص ۹۶۶ مع الشرح للاتاسی۔ مجلہ مادۃ ص ۹۶۷
شرح المجلہ للااتاسی ص ۵۲۵ شرح المجلۃ للشیخ رستم ۵۴۲ ۔خانیہ فصل فی العوض ص ۲۸۹ج ۴ وشرح المجلۃ للاتاسی ص ۳۷۵ج۳۔خانیہ ص ۲۹۰ج ۴ ۔مجمع الغمانات ص ۵۹۳۔ھندیہ ص ۳۸۴ج۴۔مجلہ مادہ ص ۸۵۹۔ مجلہ مع الشرح للاثاسی مادہ ص ۹۴۴