اسلامی ریاست میں امربالمعروف اور نہی عن المنکرکی اہمیت



سوال: 
ایک اسلامی  ملک میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کیا اہمیت ہے،اختصار کے ساتھ اگر اپنی رائے کا اظہار فرمادیں۔
 
جواب:
اسلامی ریاست معروف اورمنکر کے تصورات پر کھڑی ہوتی ہے  ۔اس کے تمام شعبوں کا مقصد خیرکا فروغ اور شر کی بیخ کنی ہوتا ہے۔امام ابن تیمیہ ؒ اپنے فتاوی میں  لکھتے ہیں: ''جمیع الولایات الاسلامیۃ انما مقصودھا الامر بالمعروف والنہی عن المنکر۔)فتاوی ابن تیمیہ جلد ۲۸ ص۶۶ ) یعنی اسلامی حکومت میں تمام اختیارات کا  مقصود امر بالمعروف اور نہی عن المنکرہے۔
 غورکیا جائے تو شعبہ جات کے علاوہ افراد بھی اسی فریضے کو انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔علماء اورمصلحین دعوت واصلاح کافریضہ انجام دیتے ہیں جوکہ امر بالمعروف  اورنہی عن المنکر کی ایک شکل ہے۔صوفیاء بھی نرمی سے اس فریضے کو اداکرتےہیں جسے تصوف کہتےہیں ۔مجاہدین بھی اس فریضے کو بروئے کارلاتے ہیں جسے جہاد کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ اسلامی معاشرہ  اپنے اقدار کے ذریعے  اورریاست قانون کے ذریعے  منکر کا راستہ روکتی  ہے چنانچہ ریاست اگر  منکر کے ارتکاب  پر مجرم  کوسزا دیتی ہے تومعاشرے میں  بھی اسے لعنت وملامت کاسامنا کرنا پڑتا ہے اور مجرم گھٹن اور بےچینی محسوس کرتا ہے ۔الغرض  اسلامی ریاست   اور اس کے تمام  شعبہ جات  کی روح یہی خیر وشر کا فرق اور خیر کا پرچار اور شر کا انکار ہے ۔