وکیل کے ذریعے سامان منگوانے کے بعد اسی کو نفع کے ساتھ فروخت کرنا



سوال:۔
ایک شخص  (زید)  دوسرے شہر  سے سامان خرید کر لاکر   بیچتا ہے، اس کا یہ کاروبار ہے، اب دوسرا شخص  (بکر)  اس سے کہتا ہے کہ آپ جب اپنا مال خریدنے جاؤ تو میرے لیے بھی اتنا مال خرید کر لے آنا،  اور اس کے لیے ایڈوانس میں  اس کو پیسے بھی دے دیتا ہے،  اس کے بعد زید اپنا اور  بکرکا مال خرید کر لاتا ہے، اور مال اپنے گودام میں رکھوادیتا ہے، اس کے بعد اس کو کہتا ہے کہ آپ کا مال آگیا ہے، آکر وصول کرلو، پھر اس کو کہتا ہے کہ آپ اس کو کہیں اور کیا بیچو گے، اگر چاہو تو اپنا مال مجھے ہی نفع کے ساتھ ادھار پر بیچ دو، میں  ساٹھ دن میں تمہیں پیسے ادا کردوں گا، کیا یہ صورت جائز ہے؟
 اس میں ایک بات یہ ہے کہ     زید کے مال خریدنے  سے پہلے  ہی دونوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ   بکر کا مال بھی  زید ہی خریدے گا، اور  زید اس کو پہلے سے بتابھی دیتا ہے کہ   میں آپ کا مال اتنا نفع رکھ کر ادھار میں  خرید لوں گا، لیکن جب مال آتا ہے  تو  اس کے بعد  زید ،  بکر کو کہتا ہے ہے آپ کا مال آگیا ہے،  میرے گودام میں موجود ہے، آپ اس کو وصول کرکے،  مارکیٹ میں بیچ سکتے ہو، اگر مجھے بیچو گے تو میں اتنی ہی قیمت میں آپ سے لوں گا جتنا میں نے پہلے بتایا تھا۔
 
جواب:۔
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو   کسی سامان  کی خریداری کا وکیل  بنادے ، اور وکیل مطلوبہ سامان  خرید لے تو   وہ سامان جب تک موکل (وکیل بنانے والے شخص ) کے حوالہ  نہ کردے  تب تک اس کو خود اپنے لیے خریدنا جائز نہیں ہے،البتہ   مطلوبہ سامان  آنے کے بعد   ، سامان منگوانے والا خود  یا اپنے کسی اور وکیل کے ذریعے اس    پر  قبضہ کر لے تو پھر     وکیل بالشراء (جس  کو سامان خریدنے کا وکیل بنایا تھا )  کو وہ ہی سامان بیچنا جائز ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں  بکر  دوسرے  شہر سے     زید  کے ہاتھ  مال منگواتا ہے،  اور اس کے لیے اس کو پیشگی رقم بھی دیتا ہے، تو  زید   جب اپنے مال کے ساتھ بکر کا مال بھی خرید کر لائے گا تو اس کے پاس یہ مال امانت ہوگا،   زید کے گودام میں مال آجانے کے بعد   اگر  بکر  خود    جاکر یا کسی دوسرے شخص کو وکیل بناکر اس گودام میں  بھیج  دے اور اس مال  کو اپنے  قبضہ میں لے لے تو اس کے  بعد بکر کے لیے وہی مال زید  کو نفع کے ساتھ ادھار میں فروخت کرنا جائز  ہوگا، مال کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے بیچنا  جائز نہیں  ہوگا۔
باقی جو   زید  پہلے سے یہ بتادیتا ہے کہ  مال لانے کے بعد میں آپ کو مال اگر خریدوں گا تو اتنے نفع پر خرید لوں گا تو یہ  چوں کہ سودا نہیں ہے، بلکہ خریدنے کا وعدہ ہے، اس لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔