خلع کے بعد ساس کا سابقہ داماد سے پردہ کا حکم
سوال:
بیٹی نے شوہر سے خلع لے لی ہے اور والدین سے ناراض ہو کر ان کے گھر سےبھی چلی گئی ہے، اب سابقہ داماد کیا ہمارے ساتھ تعلق رکھ سکتا ہے،کیا خلع کے بعد سا س اس سےپردہ کرے گی، کیا نواسا اورداماد ساس کے گھر آ کے رہ سکتے ہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ ایک دفعہ کسی عورت سے نکاح ہوجانے کے بعد اس عورت کی والدہ،مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے، چاہےعورت کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، اسی طرح مرد کا چاہے اس عورت سے نکاح باقی ہو یا نہ ہو، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں خلع کے بعد سابقہ داماد کا اپنی ساس اور سسر سےآنے،جانے،کھانے،پینے کی حد تک تعلق رکھنا درست ہے، اسی طرح ساس کے لیے دامادسےاندیشۂ فتنہ کے نہ ہوتےہوئے پردہ بھی لازم نہیں ہے،نواسا،اپنی نانی کے گھر آکر رہ سکتاہے، اسی طرح داماد بھی اگر فتنے کا خوف نہ ہوتو آکر رہ سکتا ہے۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، ص:30، ج:3، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ط:سعید۔ بدائع الصنائع، ص:258، ج:2، کتاب النکاح، فصل المحرمات بالمصاهرة، ط: دار الکتب العلمیة۔ الجوهرة النیرة، ص:3، ج:2، کتاب النکاح، ط:الخيرية)