اعتکاف کی حالت میں بھولےسے مسجد سے نکلنا
سوال:
ایک آدمی اعتکاف میں بیٹھا ہے ، اگر مسجد سے بغیر کسی مجبوری کے بھولے سے نکل جائے تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ہمارے ہاں اس طرح کا مسئلہ پیش آیا تو ایک مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ بھولے سے نکلنے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، بھول چوک معاف ہے ، اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:
اعتکاف کی حالت میں معتکف کو طبعی ضرورت کے لیے اور کسی شرعی حاجت کے لیے تو نکلنے کی اجازت ہے ، لیکن اس کے علاوہ اگر معتکف مسجد سے نکلتا ہے تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گااگرچہ یہ نکلنا بھول کرہو۔لہذا ایسے آدمی پر اس اعتکاف کی قضاضروری ہے ۔ اور قضاکرنے کا طریقہ یہ ہےکہ اعتکاف فاسد ہوجانے کے بعد ایک دن، رات روزے کے ساتھ مسجد میں اعتکاف کرے، اس کی صورت یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے پہلے اعتکاف کی قضا کی نیت سے مسجد چلا جائے اور اگلے دن روزہ رکھے اور پھر غروبِ آفتاب کے بعد واپس آجائے۔ (فتاوی شامی،ج:2،ص:447،ط:سعید)