لڑکی کاصریح رضامندی کا اظہار کب ضروری ہے ؟



سوال:
 نکاح کے موقع پر  نکاح کرنے سے پہلے لڑکی سے اجازت طلب کی جاتی ہے۔شہری ماحول میں لڑکیاں عموما زبان سے ہاں کردیتی ہے مگر دیہی ماحول میں  یا جو لوگ  دیہات کا پس منظر رکھتے ہوں ،ان کے ہاں لڑکیاں عموما شرم وحیا  کی وجہ سے زبان سے  اظہار نہیں کرتی ہیں  یا فوری طورپر نہیں کرتی ہیں ،ایسے موقع پر  ان کے  سکوت کواجازت تصور کیاجائے گا؟
 
جواب :
اگر اجازت طلب  کرنے والا  عاقلہ بالغہ لڑکی کا قریبی ولی  نہ ہوتولڑکی کی خاموشی کو اجازت نہیں سمجھا جائے گا ،اسی طرح اگر اجازت طلب کرنے والا ولی اقرب ہو یعنی اس سے زیادہ قریبی ولی اور کوئی نہ ہو  مگر عاقلہ بالغہ لڑکی  کنواری نہ ہوتو  اس کاسکوت بھی اجازت نہ کہلائے گا جب تک واضح الفاظ میں اپنی رضامندی کا اظہار نہ کردے یا کوئی ایسا فعل نہ کرے جو رضامندی پر دلالت کرتا ہو۔حاصل یہ ہوا کہ ولی ابعد اجازت طلب کرے یا ولی اقرب اجازت طلب کرے مگر لڑکی کنواری نہ ہو تو صریح رضامندی کا اظہار ضروری ہے یارضامندی پر دلالت کرنے والا کوئی فعل ضروری ہے۔واضح رہے کہ ولی اقرب سے مراد یہ ہے کہ اس سے زیادہ قریبی  ولی اور کوئی نہ ہو ،اگر ہو تو اس کے برابر ہو اور ولی ابعد سے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قریب کوئی  اور ولی موجود ہو۔