سیلاب میں بہہ کر آنے والی اشیاء کا حکم
سوال:
ملک میں بارشیں اور سیلاب ہے۔سیلاب کا پانی جب آتا ہے تو اپنے ساتھ سب کچھ بہالےجاتا ہے۔اس سیلابی پانی میں لکڑیاں بھی ہوتی ہیں جنہیں لوگ پکڑتے ہیں اورجمع کرتے ہیں اور پھر اپنے کام میں لاتے ہیں ،ان لکڑیوں کا کیا حکم ہے۔اسی طرح سیلابی پانی میں اگر کوئی قیمتی چیز مل جائے تو وہ حلال اور جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
سیلابی پانی میں جو چیزیں بہہ کرآجائیں اگر وہ قیمتی ہیں تو ان کا حکم لقطہ کا ہے۔اگر معمولی چیزیں ہوں جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ مالک ان کی تلاش نہیں کرے گا تو ان کو خود استعمال کرسکتا ہے۔ اور اگر وہ قیمتی اشیاء ہوں مثلاً عمارتی لکڑی ہو تو پھر انہیں حفاظت کی نیت سے اٹھایا جاسکتا ہے۔ اٹھانےکے بعد ایک معقول مدت تک ان کی تشہیر کی جائے گی اگر مالک آجائے تو اس کو دے دیں اور اگر مالک نہ آئے اور آنے کی امید بھی نہ ہو تو پھر ایسی اشیاء کو صدقہ کردیاجائے۔اگر اٹھانے والا خود زکوٰۃ کا مستحق ہو تو وہ اسے ذاتی ضرورت کے لیے بھی استعمال میں لاسکتا ہے۔صدقہ کرنے یا خود استعمال کرنے کی صورت میں اگر اصل مالک آجائے اوراپنی چیز کا تقاضا کرے تو اسے اپنی چیز جیسی چیز لینے کا یا اس کی بازاری قیمت وصول کرنے کا حق ہوگا۔