طلاق کے چند کنایہ الفاظ کے احکام



سوال:
میرےشوہرنے مجھے  کچھ ایسے الفاظ کہے ہیں  جس سے میں شک میں مبتلا ہوگئی  ہوں کہ ہمارا رشتہ جائز بھی ہے یا نہیں؟تین ہفتے پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اپنے میکے میں رہو، پھر کہا کہ مجھے تم نہیں چاہیے ہو۔ہفتہ  پہلے  سخت لڑائی ہوئی  تو میں نے کہا کہ میں بھی روز روز کے اس تو تکار سے تنگ آگئی ہوں۔سیدھے طرح مجھے طلاق کے الفاظ کہوتاکہ مجھے بھی سکون ہوجائے اور آپ بھی آرام سے ہوجائیں،اس پر انہوں نے کہا:  جاؤ میری طرف سے فارغ ہو۔ایک دن بعد جب دفتر سے آئے تو ان کا رویہ پرسکون تھا ۔مجھے والدہ سے ملانے کا کہا اور کہا واپسی میں مجھے شاپنگ کروادیں گے۔ واپس آنے کے بعد معافی مانگی اور کہا کہ میں غصے میں تھا؛ اس لیے بھول جاؤ۔میرا تمہیں حقیقت میں فارغ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بس اس وقت  غصے  میں کہہ گیا، ورنہ دل میں کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا۔اب وہ نارمل ہیں اور میں بھی ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات نہیں کرتی، مگر شک یہ ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ سے ہمارے رشتے میں کوئی فرق تو نہیں آیا۔آپ رہنمائی فرمادیں کہ میری الجھن بے جا ہے یا واقعی ہمارا رشتہ ختم ہوگیا ہے؟
 
جواب:
''جاؤ اپنے میکے میں رہو''  اس جملے کے متعلق شوہر سے دریافت کرلیں کہ اگر انہوں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا تو جملہ بے اثر رہا اور اس کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔یہ جملہ کہ ''مجھے تم نہیں  چاہیے ہو''اس سے اگر شوہر کا مقصد طلاق دینا تھا پھر بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ ہفتہ بھر پہلے جب  لڑائی کے دوران آپ نے طلاق کا تقاضا کیا اور شوہر نے کہا کہ ''جاؤ میری طرف سے فارغ ہو''اس جملے سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اور نکاح ٹوٹ گیا ہے۔اب حکم  یہ ہے کہ آپ کی عدت شروع ہے، اور شوہر کے لیے رجوع کرنا جائز نہیں ہے، البتہ دونوں راضی ہیں تو آپس میں عدت کے دوران یا عدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ شرعی طریقے سے نکاح ہوسکتا ہے۔نکاح ہوجانے کےبعد شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دوطلاقوں کا حق ہوگا۔