نکاح کے موقع پرکلمہ پڑھانا اورتین بار قبول کروانا



سوال:
بعض نکاح خواں حضرات کو دیکھا ہےکہ وہ نکاح سے پہلے کلمہ پڑھاتے ہیں اورتین بار قبول کرواتے ہیں،اس کی کیاحیثیت ہے؟
 
جواب:
نکاح سے پہلے کلمہ پڑھانا ضروری نہیں؛ کیوں کہ دولہا خود پہلے سے ہی مسلمان ہے، مزید یہ کہ عقد نکاح کے وقت کلمہ پڑھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین  رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے، البتہ اگر دولہا اور دلہن کے بارے میں یہ علم ہوکہ ان کے عقائد اچھے نہیں، شریعت کے خلاف ہیں تو جس کے عقائد شریعت کے خلاف ہوں، اس کو ایمان کی تجدید کے لیےکلمہ پڑھانا ضروری ہے، اور جس کے عقائد شریعت کے موافق ہیں اس کو کلمہ پڑھانے کی ضرورت نہیں، اور ضرورت کے بغیر ہر جگہ اس کو لازم سمجھنا غلط ہے، خاص کر دولہن کو سب کے سامنے کلمہ پڑھانے سے آواز کی وجہ سے فتنہ کا اندیشہ ہوتاہے، یا وہ شرماکر زور سے نہ پڑھے تو لوگوں کے دل میں اس کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوگی اور یہ بات صحیح نہیں ہے۔
اسی طرح قبول ایک بار کروانا کافی ہے، تین بار کروانا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کو ضروری سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔