کینسر کے علاج کی وجہ سے روزہ کا فدیہ ادا کرنا
سوال :
میری اہلیہ کو بریسٹ کینسر ہواہے، وہ آپریشن ہونے اور کیمو تھراپی کے بعد اب ہارمون تھراپی پر ہے، یعنی ہر روز دوائی کی ایک گولی لینی پڑتی ہے اور دوائیوں کے ساتھ ڈاکٹر کے مطابق روزہ نہیں رکھ سکتی، کیا فدیہ دے سکتی ہے؟
جواب :
اگر آپ کی اہلیہ کو مسلمان ، ماہر ، دیندار ڈاکٹر نے مذکورہ بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے تو ایسی صورت میں ان کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔اور ان کے جتنے روزے قضا ہوں ان کا حساب نوٹ کرلیں ، اور جب وہ صحت یاب ہوجائیں تواس کے بعد جس موسم میں ان کو سہولت ہو،ان روزوں کی قضا کرلیں، جب تک صحت کی توقع ہو، فدیہ دینا کافی نہیں ہوگا، صحت کے بعد قضا لازم ہوگی۔البتہ اگر روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہی اور آئندہ تاحیات صحت یابی کی امید بھی نہیں ہے، تو ایسی حالت میں زندگی میں روزہ کا فدیہ دینا درست ہوگا، تاہم فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر موت سے پہلے روزہ رکھنے کی طاقت حاصل ہو جائے اور وقت بھی ملے تو ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا، فدیہ باطل ہوجائے گا، اور صدقۂ نافلہ کا ثواب ملے گا۔اور ایک فدیہ کی مقدار ایک صدقہ الفطر کی مقدار کے برابر ہے۔(فتاوی شامی 2/ 74)