عیب کا ازالہ خدا کی خلقت کی تبدیلی نہیں
سوال:
میرا کزن ہے ، وہ خنثی ہے ، نہ مرد ہے نہ عورت ، لیکن شروع سے وہ ہمارے ساتھ کھیلتا ہے، اور کام کاج وغیرہ حتی کہ بھاری بھاری کام ہمارے ساتھ مل کر کر لیتا ہے ، اس لیے ظاہری حساب سے آج تک ہمارے محلے والوں کو بھی معلوم نہیں کہ وہ مرد نہیں ہے ۔ ہمارے خاندان والوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کا آپریشن کروا کر اسے لڑکا بنوا لیتے ہیں ، لیکن پچھلے دنوں ٹرانس جینٹس سے متعلق علماء کے بیانات سنے کہ اللہ تعالیٰ جسے جیسا پیدا کرے اسی پر انسان کو راضی رہنا چاہئے ، تبدیلی حرام اور ایک طرح سے اللہ تعالٰی کے فیصلے پر ناخوشی اور اعتراض ہے،تو مجھے یہ بتا دیں کہ کیا آپریشن کے ذریعے ہم خنثیٰ کی جنس تبدیل کر سکتے ہیں ؟ مثلا یہ ہمارا کزن مرد کے قریب ہے تو کیا اسے آپریشن کے ذریعے مرد بنا سکتےہیں ؟
جواب:
جوخنثی "خنثی مشکل" نہ ہو ، تو اگر وہ مردانہ صفات کا حامل ہو تو اس پر از رُوئے شرع مردانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، اور جو خنثی زنانہ صفات کاحامل ہو، اس پر زنانہ احکام لاگو ہوتے ہیں، لہذا اگر سائل کا کزن مردانہ صفات کا حامل ہے،لیکن مکمل مرد نہیں ہے تو اس کے موجودہ عیب کے ازالہ کے لیے آپریشن کرکے اس کو مکمل مرد بنانے کی گنجائش ہے، یہ چونکہ خدا کی خلقت کو بدلنا نہیں بلکہ عیب کا ازالہ ہے جیسا کہ زائد انگلی کو کاٹنا، اس لیے یہ جنس کی تبدیلی نہیں کہلائے گی ،لہذا اس کی گنجائش ہے۔ (الفتاوی العالمگیریۃ، کتاب الکراهیة، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج:5، ص:360، ط:المکتبة الرشیدیة)