جن ناموں میں لفظ"عبد''لگاناضروری ہے
سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ أسماء حسنی میں سے وہ کون سے نام ہیں جن کے ساتھ "عبد'' لگانا ضروری ہے۔رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
کسی کتاب میں یہ تفصیل نہیں ملی کہ کون کون سے اسمائےحسنی ٰ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں اور لفظِ ’’عبد‘‘ لگائے بغیرغیر اللہ کے لیے ان اسماء کا استعمال جائز نہیں ہے، اور کون سے اسماء کا اطلاق بغیر لفظ ’’عبد‘‘ لگائے غیراللہ کے لیے جائز ہے، البتہ فقہاء اور مفسرین کی عبارات سے مندرجہ ذیل دو اصول مستنبط ہوتے ہیں:
(1) پہلا اصول یہ ہے کہ وہ اسمائےحسنی ٰ جو باری تعالی کے اسمِ ذات ہوں یا صرف باری تعالیٰ کے صفاتِ مخصوصہ کے معنی ٰ ہی میں استعمال ہوتے ہوں، تو لفظِ ’’عبد‘‘ لگائے بغیران کا استعمال غیراللہ کے لیے کسی حال میں جائز نہیں، مثلًا: اللّٰه، الرحمٰن، القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، البارئ، المصور، الرزاق، الغفار، القهار، التواب، الوهاب، الخلاق، الفتاح، القیوم، الرب، المحیط، الملیك، الغفور، الأحد، الصمد، الحق، القادر، المحیی.
(2) وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کے صفاتِ خاصہ کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہوں اور دوسرے معنی کے لحاظ سے ان کا اطلاق غیراللہ پر کیا جاسکتاہو، ان میں تفصیل یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث، تعاملِ امت یا عرفِ عام میں ان اسماء سے غیراللہ کا نام رکھنا ثابت ہو تو بغیر لفظِ ’’عبد‘‘ لگائے ایسا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں ہے، مثلاً:علي، كریم، رحیم، عظیم، رشید، كبیر، بدیع، كفیل، هادي، واسع، حكیم، وغیرہ۔
مذکورہ دو اصولوں سے یہ اصول خود بخود نکل آیا کہ جن اسمائے حسنی ٰ کے بارے میں یہ تحقیق نہ ہو کہ قرآن وحدیث، تعاملِ امت یا عرف میں وہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟ تو بغیر لفظِ ’’عبد‘‘ لگائے ایسے نام رکھنے سے پرہیز لازم ہے، کیوں کہ اسمائے حسنی میں اصل یہ ہے کہ ان سے غیراللہ کا نام رکھنا جائز نہ ہو، جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔بہرحال اسمائے حسنی ٰ کے بارے میں اسےاصولی جواب سمجھنا چاہیے ؛ کیوں کہ ہرہر نام کے بارے میں تصریح نہیں ملی ہے،مزید یہ کہ اللہ تعالی کے اسماء گرامی صرف اسمائےحسنی ٰ میں منحصر نہیں ہے، جیسا کہ احادیثِ مبارکہ کے روسے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
" اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے ، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کے لیے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لیے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جیسے رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ ، اور اسمارحسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں، وہ صرف اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہیں، ان کو غیراللہ کے لیے استعمال کرنا اتحادِ مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے، مثلاً رحمٰن ، سبحان، رزاق ، خالق، غفار، قدوس وغیرہ ، پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بنا پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کر رہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بے فکری یا بے سمجھی سے کسی شخص کو خالق ، رزاق یا رحمن سبحان کہہ دیا تو اگرچہ کفر نہیں، مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہ شدید ہے ، افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں .... ’’ایسا کرنا گناہِ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں ہوتا۔" (تفسیر معارف القرآن، تفسیر آیت:180،ج:4،ص:132،/133،ط :معارف القرآن)
اورمولانامحمد یوسف لدھیانوی صاحب شہید رحمہ اللہ لکھتےہیں:
" عبد کا لفظ ہٹاکر اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ بندے کو پکارنا نہایت قبیح ہے، اللہ تعالیٰ کے نام دو قسم کے ہیں:ایک قسم ان اسمائے مبارکہ کی ہے جن کا استعمال دُوسرے کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، جیسے:اللہ، رحمن، خالق، رزّاق وغیرہ۔ ان کا غیراللہ کے لیے استعمال کرنا قطعی حرام اور گستاخی ہے، جیسے کسی کا نام’’عبداللہ‘‘ہو اور’’عبد‘‘کو ہٹاکر اس شخص کو ’’اللہ صاحب‘‘کہا جائے، یا ’’عبدالرحمن‘‘کو’’رحمن صاحب‘‘ کہا جائے، یا ’’عبدالخالق‘‘ کو’’خالق صاحب‘‘ کہا جائے، یہ صریح گناہ اور حرام ہے، اور دُوسری قسم ان ناموں کی ہے جن کا استعمال غیراللہ کے لیے بھی آیا ہے، جیسے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’روٴف رحیم‘‘ فرمایا گیا ہے، ایسے ناموں کے دُوسرے کے لیے بولنے کی کسی حد تک گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن ’’عبد‘‘ کے لفظ کو ہٹاکر اللہ تعالیٰ کا نام بندے کے لیے استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں، بہت سے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہیں اور یہ محض غفلت اور بے پروائی کا کرشمہ ہے۔"(آپ کے مسائل اور ان کا حل،ج:8،ص:268، 269،،ط:مکتبہ لدھیانوی)