فکسڈ کمیشن یا مضاربت کے طور پر رقم لے کر گاڑی بک کروانے کے لیے رقم دینا اور رقم ڈوب جانا



سوال :
ہمارا گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار  ہے جو کہ  Auto Park کے نام سے ہے۔ایک اورشخص ب(فرضی نام) نئی زیرو میٹر گاڑیوں کی بکنگ کا کام بھی کرتا  تھا، جس کے لیے مختلف لوگ اور شو روم والے   اس کو ایڈوانس  میں پیسے دیتے  تھے،  اور اس کو مارکیٹ میں سب لوگ جانتے تھے،  توب ان پیسوں سے  کمپنی میں نئی گاڑی کی بکنگ کردیتا تھا، اور یہ گاڑی تقریباً دو مہینہ بعد  کمپنی سے آتی تھی اور پھر نفع (own) پر بک جاتی تھی۔
ہمارا بھی  ب  سے  اسی طرز کا کاروبار تھا، ہم بھی اس کو نئی گاڑیوں کی بکنگ کے لیے پیسے دیتے تھے، اس دوران  ہمارے مختلف تعلق والے  بھی ہمیں ہمارے اعتماد پر  پیسے دینے لگے ؛ تاکہ ہم ان کے لیے  نئی گاڑی کی بکنگ کرادیں،اور ان کے لیے نئی گاڑیوں  میں ان کے پیسے انویسٹ کردیں، ہم ان کے پیسے ب کے پاس نئی  گاڑی کی بکنگ کے لیے دیتے تھے۔
اس بکنگ کے بدلے  میں ہم یعنی Auto Park والے بعض انویسٹرز سے گاڑی بک کرواکر منگوانے کا   فکسڈ کمیشن  لیتے تھے جو کہ 20000 سے 30000 کے درمیان  فی گاڑی ہوتا  تھا، جب کہ بعض انویسٹر سے  یہ طے ہوتا تھا کہ جب دو ماہ بعد گاڑی آئے گی اس کو بیچ کر  جو نفع ہوگا اس نفع کا   ٪25  یا  ٪ 30 فیصد ہمارا  اور باقی  ٪75 یا ٪70  انویسٹر کا ہوگا۔
اسی طرز پر کافی عرصہ  سے کام چل رہا تھا، اور ہمارے انویسٹر ز نے اس عرصہ میں اس کے کاروبار کے ذریعہ لاکھوں کمایا، اب معاملہ یہ ہے کہ اچانک   ب فراڈ کرکے  پیسے لے کر بھاگ گیا،  اور ہمیں  جو پیسے  لوگوں نے آگے گاڑیوں کی بکنگ کے لیے دئیے تھے، وہ پیسے ڈوب گئے ۔
 اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ  ہم   Auto Park والے جو کہ فکسڈ کمیشن پر یا پھر گاڑی  کے بکنے پر ملنے والے مکمل نفع میں سے مخصوص  شرح سے اپنا نفع لینے کی بنیاد پر لوگوں کے لیے  گاڑیاں بک کرتے تھے تو آیا   ہم انویسٹر کے پیسوں کے ڈوبنے کے ذمہ دار ہیں؟ اور کیا ہم ان پیسوں کو اپنی ذات سے  ان انویسٹرز کو واپس لوٹانے کے بھی ذمہ دار ہیں؟ اور اس سے پہلے  اب تک  اتنے عرصہ میں انویسٹرز  نے لاکھوں روپے  نفع حاصل کیا، آیا یہ نفع، نقصان میں  منہا کیا جائے گا؟
 
جواب :
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل( Auto Park) کو ان کے جاننے والے جو رقم نئی گاڑیوں کی بکنگ اور ان سے نفع حاصل کرنے کے  لیے دیتے تھے، اس کی دو صورتیں ہوتی تھیں: (1)   كسٹمر کے لیے گاڑی بک کرواکر منگوانے کافکسڈ کمیشن  لینا۔ (2)  گاڑی منگواکر فروخت کرکے منافع  فیصدکے اعتبار سے طے کرنا۔
ان میں سے پہلی صورت میں ( Auto Park) والے کی حیثیت ”کمیشن ایجنٹ“  کی ہے، اور دوسری صورت میں  معاملہ ”مضاربت “ کا ہے، اورب کی حیثیت مضارب (ورکنگ پارٹنر ) کی ہے۔ دونوں صورتوں میں شرعا ً( Auto Park) والے ”امین “ ہیں، ان کے پاس لوگوں کی رقم  ”امانت“  ہے۔امانت کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ تعدی یعنی غفلت، کوتاہی کے بغیر ہلاک ہوجائے تو  اس کا ضمان لازم نہیں آتا ، اور اگر امین ( جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے)  کی تعدی، غفلت اور کوتاہی   سے ہلاک ہوجائے تو اس کا ضمان لازم آتا ہے۔
لہذا پہلی صورت میں اگر معاملہ اس طرح ہوا ہے کہ لوگوں نے سائل کو متعین کمیشن  پرنئی گاڑی کی  بکنگ کروانے کے لیے  پیسے دئیے ہیں، اور سائل نے لوگوں  کو بتادیا تھا کہ  وہ  ب کے  ذریعہ گاڑی منگواکر دے گا  اور لوگ اس پر راضی تھے  اور اس کے بعد  سائل نےان کے لیے کاروبار کے معروف طریقہ کے مطابق  ، تحقیق کرکےگاڑی بکنگ کرانے کے لیے ب کو پیسے دئیے، اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہیں کی، لیکن  اس کے بعد ب پیسے لے کر فرار ہوگیا تو سائل پر اس رقم کا ضمان لازم نہیں ہوگا، البتہ ب سے رقم یا گاڑی ملے گی تو لوگوں کو حوالہ کرنا لازم  ہوگا، اور اگر سائل نے گاڑی بکنگ کرتے وقت  لوگوں سے ب کے ذریعہ گاڑی منگوانے کی بات نہیں کی تھی تو پھر سائل لوگوں کی رقم کا ضامن ہوگا۔
دوسری صورت  میں جو سائل نے  بعض انویسٹر سے  یہ طے کیا تھا  کہ آپ کی انویسٹ کی رقم سے گاڑی کی بکنگ کروائیں گے اور جب دو ماہ بعد گاڑی آئے گی اس کو بیچ کر  جو نفع ہوگا اس نفع کا   ٪25  یا  ٪ 30 فیصد ہمارا  اور باقی  ٪75 یا ٪70  انویسٹر کا ہوگا تو اس صورت میں اگر سائل  کو ان انویسٹرز نے یہ اجازت دی تھی آپ ب کے پاس ہمارے پیسے لگائیں، یا یہ کہا تھا اپنی مرضی کے مطابق جہاں مناسب سمجھیں گاڑی کی بکنگ کے لیے پیسے  لگائیں تو ان  صورتوں میں سائل نے مکمل تحقیق کے بعد ،  جب گاڑیوں کی بکنگ کے لیے ب  کو پیسے دئیے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہیں کی، اور  اس کے بعد ب پیسے لے کر فرار ہوگیا  تو ایسی صورت میں اگر اس مضاربت میں کوئی نفع ہوا ہے تو نقصان کو  سب سے پہلے اس مضاربت کے مکمل (انویسٹر اور سائل دونوں کے )  نفع سے پورا کیا جائےگا ،  اگر وہ نقصان نفع سے پورا ہوجائے تو  ٹھیک، لیکن  اگر نقصان نفع سے پورا نہ ہو تو پھر یہ نقصان  رب المال (انویسٹر/سرمایہ دار ) کا شمار ہوگا،  سائل اس نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا بشرط یہ کہ  نقصان سائل  کی غفلت، کاہلی وغیرہ کی وجہ سے نہیں ہوا ہو ، اگر نقصان سائل کے قصور اور تعدی کی وجہ سے ہوا ہو تو اس نقصان کی ذمہ داری سائل  پر عائد ہوگی۔
مضاربت میں پہلے  جو نقصان ہوا نفع سے پورا کیا جائے گا، اس سے مراد یہ ہے کہ جو نفع اس جاری معاملہ سے ہوا ہے، اگر  کئی سالوں سے متفرق معاملات  ہوئے ہوں اور ایک معاملہ ختم ہوجانے کے بعد ،  منافع تقسیم ہوکر سرمایہ واپس کردیا گیا ہو،    تو حالیہ نقصان کی تلافی گزشتہ سب   معاملات کے منافع سے نہیں کی جائے گی، بلکہ حالیہ مضاربت کا معاملہ جب سے جاری ہوا، اس کو ختم نہیں کیا  تو نقصان کی تلافی پہلے اس نفع سے کی جائے گی۔