ماضی کی کسی بات پر ایمان سے محروم ہونے کی قسم کھانے کا حکم
سوال:
میرے شوہر نے مجھے ایک بات کے بارے میں کہا کہ اگر آپ نے یہ بات کی ہے اور آپ کہتی ہیں کہ میں نے نہیں کی تو آپ ایمان سے خالی جائیں۔ میں نے کہا ہاں۔ اور اگر میں نے نہیں کی اور آپ کہتے ہیں کہ میں نے وہ بات کی ہے تو آپ ایمان سے خالی جائیں ۔اس نے کہا ہاں۔ اب ایک تو ضرور جھوٹا ہوگا۔ تو اس سے کیا لازم آتا ہے؟ نکاح تو نہیں ٹوٹتا؟
جواب:
اگر آپ دونوں میں سے کسی نے جانتے بوجھتے جھوٹی قسم کھائی ہو تو اس نے انتہائی سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور اس پر توبہ و استغفار لازم ہے، لیکن اس قسم کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹا ہے اورجھوٹی قسم کھانے والا دائرہ اسلام سے بھی خارج نہیں ہے۔ (بہشتی زیور،حصہ سوم ، ص: 145، قسم کھانے کا بیان، ط: توصیف پبلیشر۔ فتاوی دارالعلوم دیوبند 12 /35، باب الیمین، ط: دارالاشاعت۔ بدائع الصنائع كتاب الأيمان، فصل في ركن اليمين بالله تعالى، 3/ 8، ط: دار الكتب العلمية)