بیوی کو جاؤ چلی جاؤ ،نکل جاؤ کہنے کا حکم



سوال:
میرے شوہر طبیعت  کے بہت اچھے ہیں مگرغصے کے وقت بالکل  بدل جاتےہیں ۔اس دوران کچھ ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو میں سمجھتی ہوں کہ رشتے کے لیے خطرناک ہیں۔ابھی حال ہی میں کسی بات پر غصے ہوئے اورکہنے لگے کہ جاؤ چلی جاؤ نکل جاؤ میرے گھر سے۔میں اس وقت چھپ رہی کہ خدانخواستہ مزید کچھ نہ کہہ دیں۔گھنٹہ دوگھنٹہ بعد جب ان کا غصہ ختم ہوا تو بہت نادم ہوئے اور معافیاں مانگنے لگے۔میں نے کہا مجھے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن نازک بات ہے اس لیے معلوم کرلیں،وہ کہنے لگے کہ میں خدا کو حاضر وناظر جان کرکہتا ہوں کہ میری رشتے کو ختم کرنے یا طلاق وغیرہ کی کوئی نیت نہیں تھی۔اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ میں ان کی بات پر یقین کرلوں؟
 
جواب:
شوہرنے جو جملے استعمال کیے ہیں وہ  اس وقت طلاق کے ہیں جب شوہر نے انہیں طلاق کی نیت سے ادا کیا ہو مگر شوہر چونکہ طلاق کی نیت کا انکار کرتے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے آپ کے سامنے قسم بھی اٹھالی ہے اس  لیے ان کی بات  کا اب اعتبار ہے اور کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔نکاح برقرار ہے۔