والد کی دوکان سے بلااجازت پیسے اٹھانا



سوال:
 ہم چار بھائی ہیں بڑا بھائی باپ کے میڈیسن دکان میں ہوتا ہے میں تیسرے نمبر پر ہوں میں دس سال سے اس دکان میں کام کرتا ہوں لیکن بڑا بھائی ہر چیز پر قابض اور مجھے دس ہزار تنخواہ دیتے ہے جس میں گزارہ ناممکن ہے شادی شدہ ہوں اور باپ بھی حیات ہے کیا میرے لیے دکان سے پیسے ان کے اجازت کے بغیر اپنے جیب میں ڈالنا جائز ہے یعنی اپنے بڑے بھائی سے چوری کرنا جب کہ کتنی بار کہہ چکا ہوں اسے کہ مجھے بھی برابر حصہ دیا کرو لیکن مجھے نہیں دیتے اس بارے میں کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام باقی دو بھائی روزگار پرہیں اور میں دس سال سے اسی دکان میں ہوں شادی شدہ ہوں ایک بیٹی ہے ۔
 
جواب:
بڑے بھائی آپ کی تنخواہ نہیں بڑھاتے ہیں تو کاروبار چونکہ والد کا ہے اس لیے والد صاحب کے سامنے اپنی ضرورت کا تذکرہ کرکے ان سے تنخواہ میں اضافے کی بات کی جاسکتی ہے لیکن اگر دونوں میں سے کسی کی اجازت  نہ ہوتو آ پ کے لیے چوری چھپے دوکان سے پیسے اٹھانا جائز نہیں ہوگا۔ باقی اخراجات پورا کرنے کے لیے کسی اور جگہ ملازمت کرنے کی اجازت ہوگی، کم تنخواہ پر بھائی کے ساتھ ملازمت کرنا لازم نہیں ہے۔