متوقع لاگت کے کچھ فیصدکو اجرت مقررکرنا



سوال :
کچھ عرصہ قبل میں نے تعمیرات کا ایک ٹھیکہ  ٹوٹل اخراجات  کا بیس فیصد پر   طے کیا ، اور پھر اس کام میں ایک بندے کو میں نے سپروائزر بنایا اور اسے کہا کہ تمہیں دس فیصد دوں گا، کام پورا ہونے  پر وہ بندے کی ٹوٹل لاگت بیس لاکھ تک آئی جس کا دس فیصد دو لاکھ بنتا ہے، جب کہ میں نے مکمل کام کے اخراجات (جو اسی لاکھ تھے) کی بنیاد پر مالک سے سولہ لاکھ وصول کیے، اور اس حساب سے دس فیصد آٹھ لاکھ بنتا ہے،  سپر وائزر کو کام دیتے وقت میری نیت یہ تھی کہ خود جو بیس فیصد وصول کروں گا اس حساب سے دس فیصد یعنی اپنی وصولی کا آدھا اس سپروائزر کو دوں گا، جب کہ وہ (مارکیٹ کے عرف کے مطابق) یہ سمجھا کہ جتنا  خرچہ وہ کرے گا اس کا دس فیصد مزدوری کے طور پر لے گا، اس سے بات کرتے وقت صرف دس فیصد کی بات ہوئی تھی اور کوئی تفصیل نہیں تھی، تو اس صورت میں شرعاً  مجھ پر کیا لازم ہے کہ اس کو کتنی رقم ادا کروں؟
2: اگر ٹھیکے کی یہ صورت درست نہیں ہے تو جائز صورت کیا ہوگی؟
 
جواب:
1- اجرت غیر متعین اور  مبہم تھی ، کہ جتنے اخراجات ہوں گے ان کے بیس فیصد کے برابر رقم    ٹھیکیدار کو  ملے گی، اور کام کے وقت اخراجات بھی معلوم نہیں تھے کہ پورے کام میں کتنا خرچہ ہوگا، اس لیے یہ معاملہ فاسد تھا، اب آپ اجرتِ مثل لینے کے حق دار ہیں، یعنی آپ نے  جتنا کام کیا ہے اس کی اس علاقے میں جتنی  اجرت ہوتی ہے وہ آپ وصول کر سکتے ہیں، نیز آپ نے جس شخص کو آگے کام کا سپر وائزر بنایا تھا اس کی بھی اجرت متعین نہیں کی گئی تھی اس لیے اس کو  بھی اجرتِ مثل دی جائے گی ۔
2- ٹھیکے کے مذکورہ کام  کی درست  صورت یہ ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلےہی اجرت   متعین کر دی جائے، مثلاً :یہ کہ اس گھر کی تعمیر کرنے کی اجرت اتنی ہے، یا دوسری صورت یہ  ہو سکتی ہے کہ دن کی اجرت طے کر لیں اور جتنے دن کام کریں اس کے حساب سے اجرت وصول کریں۔