جنگلات اور معدنیات کو ٹھیکے پر دینے کا حکم



سوال:
ضلع چترال میں جنگلات اور معدنیات پائے جاتے ہیں، علاقے کے لوگ جنگلات کی لکڑیاں (ملبہ اور ٹمبر کی صورت میں) اور معدنیات ٹھیکے داروں کے ہاتھ یاٹینڈر کے ذریعے فروخت کرتے ہیں، ٹھیکے داروں سے معاہدہ کے مطابق جو رقم بنتی ہے، وہ 40 فیصد حکومت کی اور باقی 60 فیصد لوگوں میں تقسیم ہوتی ہے، علاقے میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں، اصل باشندے اور زرخرید یعنی وہ لوگ جو باہر سے آکر یہاں زمینیں خرید کر رہ رہے ہیں۔
وضاحت:  یعنی قدرتی جنگلات جو کسی کی ملکیت نہیں ہے، لوگ ان سے اپنی گھریلو ضروریات کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور کبھی اس علاقے کے لوگ مل کر ان جنگلات کو ٹھیکے داراوں کو بیچ دیتے ہیں، اور جو پیسہ ان کو ملتا ہے وہ ان میں عددِ نفوس کے اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا رائلٹی کے ملنے والے 60 فیصد کے حقدار اصل باشندوں کی طرح زرخرید بھی ہیں یا نہیں؟
نوٹ:  رائلٹی کے متعلق پاکستان کا قانون یہ ہے کہ زرخرید جس کمپارٹ (کمپارٹ جنگلات کے رقبے کے اعتبار سے تقسیم کا نام ہے) کے قریب رہتا ہے، اسی کمپارٹ کی رائلٹی کا حقدار ہے، دیگر کمپارٹوں میں نہیں، مثلاً کمپارٹ 20 ہیں، زرخرید صرف 3 کمپارٹ کے قریب رہتا ہے، تو تین کمپارٹوں میں رائلٹی کا حق دار ہوگا۔
 
جواب:
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ جنگلات حکومت کی ملکیت ہیں، اور حکومت نے علاقے کے لوگوں کو اس بات کا اختیار دیا ہوا ہے کہ اگر وہ ان جنگلات سے بذات خود فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھا سکتے ہیں، یا علاقے کے لوگ ان جنگلات کو آگے ٹھیکے پر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں ٹھیکے داروں کے ساتھ جو رقم طے ہوگی اس کا 40 فیصد حکومت لے گی اور 60 فیصد علاقے کے افراد میں عددِ نفوس کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، خواہ وہ اس علاقے کے اصل باشندے ہوں یا باہر سے آکر یہاں زمین خرید کر رہ رہے ہیں، دونوں فریقوں کا اس 60 فیصد میں حکومت کے قوانین کے مطابق حق ہوگا، اور یہی اس کا شرعی حکم ہے۔
غرض کہ حکومت کے قوانین اور ضوابط کے مطابق عمل کرنا لازم ہوگا۔