قرآن مجید کی آیت کو نیچے سے اوپر کی طرف لکھنا



سوال:
ہماری  مسجد  کے  باہر کی جانب سے ستونوں پر چند آیات کریمہ کی کیلیگرافیاں لگانا طے ہوا، جن کی  حالت یہ ہوگی:
1- حروف اور الفاظ کی ترتیب داہنے سے بائیں جانب نہیں، بلکہ نیچے سے اوپر کی جانب ہے۔ مثلاً: ’’وذكر اسم ربه‘‘  کو اس طرح لکھا گیا:  نیچے: وذ، اس کے اوپر: كر، اس کے اوپر: ا،  اس کے اوپر: سم۔
2- حروف  اور  الفاظ کو  جس انداز سے لکھا گیا، اس کو   حافظ اور  عالم غور کرنے کے بعد سمجھ لیتا ہے،  مگر عام ناظرہ خواں  کے  لیے سمجھنا کٹھن ہے۔
3- کیلیگرافی  کی تختی کے اندر بجلی  کی لائٹ  ہوگی،  جس کی وجہ سے رات کو  یہ حروف روشنی دار  دیکھا جائے گا اور ماحول میں بھی ہلکی  روشنی پھیلے  گی۔
اس بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے ہمیں مطلع فرمائیں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں!
 
جواب:
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور  لوگوں کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے نازل ہوئی ہے،  اس کو اس انداز سے لکھنا کہ اس کا مقصد ہی فوت ہوجائے درست نہیں ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں آیتِ کریمہ کے لکھنے کا جو انداز ذکر کیا ہےاگر اس انداز  سے لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری ہورہی ہو جس کی وجہ سے  قرآن کریم کا مقصد فوت ہورہاہےتو اس طرح لکھنا درست نہیں ہے اور اگر پڑھنے سمجھنے میں دشواری نہ ہو تو  اس طرح لکھنا جائز ہے۔