دوسرے کی طرف سے سامان کی خریداری میں ڈسکاؤنٹ خود لینا
سوال :
میں ایک سرکاری ادارے کا ملازم ہوں مجھے ادارہ کا سربراہ ادارے کی ضروریات کی اشیا ٕ خریدنے کےلیے بھیجتا رہتا ہے ، مارکیٹ میں ایک چیز 500 روپے کی ملتی ہے تو اگر میرے ذاتی تعلق کی وجہ سے یا پھر مارکیٹ میں موجود مختلف دوکان پر جانے کی وجہ سے مجھے وہ چیز 400 روپے میں مل جاتی ہے تو کیا میرے لیے یہ جائزہے کہ 100 روپے اپنے لیے رکھ لوں یا ادارے کو واپس کر دینا لازمی ہیں؟ ادارے کی طرف سے یہ کام میری ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے۔
جواب
ادارے کے سربراہ کے حکم پر اگر آپ کوئی چیز مارکیٹ سے خریدتے ہیں تو وہ چیز انہی کے لیے ہوتی ہے، آپ کی حیثیت صرف نمائندہ اور وکیل کی ہے، لہذا اس چیز کے خریدنے پر دکان دار کی طرف سے جو رعایت ڈسکاؤنٹ کی صورت میں ملتی ہے ، وہ آپ کا حق نہیں، بلکہ جس نے سامان منگوایا ہے اسی کا حق ہے، یعنی وہ چیز جتنے پیسوں کی آپ کو ملی ہے آپ دفتر سے اتنے ہی پیسے لے سکتے ہیں، اور جو ڈسکاؤنٹ کی مد میں پیسے بچ جائیں وہ ان کو واپس کرنا ضروری ہے۔
اگر یہ کام آپ کی ذمہ داری میں داخل نہیں ہے تو آپ اس سے معذرت کرسکتے ہیں یا ان سے پہلے سے اپنے لیے اجرت طے کرکے لے سکتے ہیں۔