ٹیکس انوائس کی خریدوفروخت



سوال
آج کل کاروبای دنیا میں ”سيلز ٹيكس   کی انوائس“ کی خرید وفروخت کی جاتی ہے، جو شخص مال باہر سے منگواتا ہے، امپوٹر كو اس كی  انوائس ملتی ہے،    ٹیکس انوائس“  اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ خریدار نے مال خریدتے ہوئے حکومت کو اس کا ٹیکس ادا کیا ہے، اس ٹیکس کی ادائیگی پر حکومت  اس کو  ”ٹیکس انوائس “ جاری کرتی ہے، اب اگر  خریدار یہ مال کسی کو  ٹیکس انوائس کے بغیر فروخت کردے، تو اس کے پاس مال کے بغیرصرف یہ انوائس اور ٹیکس ویلیوموجود ہوتی ہے،   اب جس شخص نے مال نہيں منگوایا، اس کو یہ انوائس فروخت کی جاتی ، جب یہ مال خریدے گا تو حکومت اس سے ٹیکس وصول نہیں کرے گی، اب جب کہ مال موجود نہیں ہے، نفسِ انوائس کو بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
 
جواب :
” ٹیکس انوائس“  مال نہیں ہے،  بلکہ  ٹیکس کی ادائیگی کی  دستاویز ہے، لہذا صرف ٹیکس انوائس کو فروخت کرنا اور اس پر نفع کمانا جائز نہیں ہے۔