سرمایہ کاری کے منتظم کو نقصان کا ذمہ دارٹھہرانا
سوال:
میں نے ایک دوست کو کاروبار کے لیے پیسے دیے تھے، وہ باہر سے مال منگواتا ہے اور یہاں فروخت کرتا ہے، مگر اس وقت اس کا ہاتھ تنگ تھا، وہ میرے پاس آیا اور کاروبار میں لگانے کے لیے رقم مانگی اورہر طرح اصل سرمایہ اور نفع کی امید دلائی۔کاروبار یہ تھا کہ باہر سےکاغذمنگواکر فروخت کرنا تھا۔اس کے اصرار پر میں راضی ہوا۔طے یہ ہوا کہ آدھا نفع وہ رکھے گا اور آدھا مجھے دے گا۔میرے اطمینان کے لیے اس نے ایک اسٹامپ پر لکھ کردیا کہ اگر نقصان ہوجائے تو وہ ذمہ دار ہوگا اور اگر نفع ہوگا تو اس میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہوں گے۔اب میرے دوست کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں میں اس کا مال خراب ہوگیا جس کی وجہ سے نقصان ہوگیا ہے۔اب وہ سرمایہ کے لوٹانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے جب کہ وہ لکھ کر مجھے دے چکا ہے ۔میں چاہوں تو قانون کے زور پر بھی اس سے وصولی کرسکتا ہوں مگر میں ایسا نہیں چاہتا۔آپ بتائیں کے وہ کم ازکم میرا اصل سرمایہ لوٹانے کا پابند ہے یا نہیں؟
جواب:
کاروبار میں اس طورپر شرکت کرنا کہ ایک فریق کی جانب سے سرمایہ ہو اور دوسرےفریق کی جانب سے محنت ہو، اسے شریعت کی زبان میں "مضاربت" کہاجاتا ہے۔مضاربت میں جو فریق سرمایہ کو استعمال میں لاکر کاروبار کرتا ہے اسے "مضارب" کہتے ہیں ۔ مضارب کی حیثیت امین کی ہوتی ہے اس لیے اگر وہ زیادتی یا کوتاہی نہ کرے اور نہ ہی طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کرے، اس کے باوجود کاروبار میں نقصان ہوجائے تو وہ نقصان کا ذمہ دارنہیں ہوتا ہے۔اگراسےمعاہدہ میں بہر صورت نقصان کا ذمہ دارٹھہرایا جائے تو یہ شرط ناجائز ہے۔
آپ کے معاہدے میں چوں کہ دوست کونقصان کاذمہ دار بنایاگیا تھا، اس لیے یہ شرط ناجائز تھی۔اب چوں کہ دوست کا موقف ہے کہ نقصان ہوچکا ہے اس لیے امین ہونے کی حیثیت سے اس کی بات کا اعتبار کیاجانا چاہیے۔اگر آپ کو نقصان ہونے سے انکار ہے تو پھر مضارب (آپ کے دوست) کو گواہ یا دستاویز کے ذریعہ نقصان ثابت کرنا پڑے گا، اگر وہ نقصان کو ثابت کردے تو بہتر، اور اگر وہ نقصان ثابت نہیں کرسکا تو آپ پر قسم آئے گی، اگر آپ قسم اٹھالیں گے تو آپ کے دوست کو اصل سرمایہ واپس کرنا پڑے گا۔