قرض کی معافی اورپھر اس کامطالبہ
سوال:
میرے اوپر ایک شخص کا قرضہ تھا اورادائیگی میں مجھ سے تاخیر بھی ہوئی، لیکن تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ میں بہت مشکلات کا شکار تھا اوریہ بات مجھے قرض دینے والا بھی جانتا تھا کہ میں جان بوجھ کر رقم لوٹانے میں تاخیر نہیں کررہا ہوں،جب کچھ عرصے تک مجھ سے رقم کا بندوبست نہ ہوا تو قرض خواہ نے وہ رقم مجھے چھوڑ دی ، اب جب میرے حالات اچھے ہوگئے ہیں تو وہ صاحب مجھ سے اپنے قرضے کامطالبہ کرتے ہیں ۔پوچھنا یہ ہے کہ قرضہ مجھے معاف ہوا ہے یا نہیں؟ اوروہ صاحب اب مجھ سے مطالبے کاحق رکھتے ہیں یا نہیں ؟اوراگر میں اتنی یا اس سے کچھ یا زیادہ رقم ان کو دے دوں تو شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اگر قرض خواہ کی جانب سے رقم چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے وہ قرض کی رقم آپ کو معاف کردی تھی تو آپ کا قرضہ معاف ہوچکا ہے اوراب قرض خواہ کو آپ سےقرض کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا، تاہم اگر آپ حسنِ سلوک اورحسنِ ادائیگی کے طورپر ان کو کچھ اداکرتے ہیں تو نہ صرف اس کی اجازت ہے، بلکہ ترغیب ہے۔