سودا مکمل ہونے کے بعدچیز روکے رکھنا اور اسے آگے بیچنا
سوال:
میں نے ایک دوکان فروخت کی ہے، مگر اس کا قبضہ نہیں دیا ،جب قیمت وصول ہوجائے گی پھر میں اس کا قبضہ خریدار کودوں گا،اب اگر اس دوران مجھے اس سے اچھا سودا مل جاتا ہے تو کیا میں فروخت نہیں کرسکتا ہوں؟
جواب:
ہمیں ملکیت اور قبضہ کا فرق روا رکھنا چاہیے،ایک ہے ملکیت منتقل نہ کرنا اور ایک ہے قبضہ نہ دینا،دونوں میں فرق ہے،جب سودا مکمل ہوجاتا ہے تو ملکیت خریدار کی طرف منتقل ہوجاتی ہے اوربیچنے والے پر یہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ چیز کا قبضہ خریدار کے حوالے کردے ،کیوں کہ اگر قیمت بیچنے والے کاحق ہےتو چیز پرخریدار کا حق ہے، البتہ اگر سودا نقد ہو اورخریدارقیمت کی ادائیگی کے لیے تیار نہ ہوتوبیچنے والا قیمت کی وصولی تک چیزاپنے قبضے میں رکھ سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ملکیت خریدار ہی کی ہوتی ہے اور اگر سودا نقدنہ ہو، بلکہ قیمت ادھار ہو تو بیچنے والے کو چیزروکے رکھنے کا حق بھی نہیں ہوتا ہے۔دونوں صورتوں میں یعنی بیچنے والے کوروکنے کا حق ہویا نہ ہو،ملکیت چوں کہ خریدار کو منتقل ہوجاتی ہے اس لیے بیچنے والے کے لیے وہ چیز کسی دوسرے شخص کو فروخت کرنا جائز نہیں۔