مضارب کاسرمایہ کی وصولی سے انکار اورپھر اقرار



سوال:
میں نے ایک جاننے والے کو رقم دی تھی کہ وہ اس سے کاروبار کرے اورجو نفع ہو وہ دونوں کاآدھا آدھا ہوگا،اس نے میرے ہی سرمایہ سے کاروبار شروع  کیا، مگر مجھے کچھ نفع نہ دیا ،جب میں نے نفع مانگا تو وہ انکاری ہوگیا کہ  میں نے اسے کوئی رقم دی ہے اور بالکل انکار کردیا،میں نے معاملہ اللہ پاک پر چھوڑ دیا، اب اللہ پاک کا کرنا یہ ہوا ہے کہ  وہ  شخص میرے پاس آیا  اور معافی مانگی اورآدھا نفع بھی پیش کیا  اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم اس کاروبار کو جاری رکھتے ہیں۔ کیا اب ہم اس کاروبار کو جاری  رکھ سکتے ہیں؟
 
جواب:
جب  مذکورہ شخص نے اقرار کرلیا ہے   توانکار سے پہلے کے زمانے، انکار کے بعد سے اقرار سے پہلے کے زمانے اور اقرار کے بعد کے زمانے کا نفع آپس میں طے شدہ نفع کے اعتبار سے تقسیم کرنا (استحسانا)جائز ہے، اگر آپ اسی کاروبار کو آگے بڑھانا چاہیں تو بڑھا سکتے ہیں، لیکن چوں کہ مؤمن ایک گڑھے میں دو دفعہ نہیں گرتا ، اس لیے احتیاط کرنا بہتر ہے۔