حرام وحلال کے متعلق خبروں کا حکم



سوال:
یہ جو خبریں چلتی ہیں کہ یہ چیز ناجائز وحرام ہے  یا یہ چیز حلال ہے،اس کا کیا حکم ہے ؟
 
جواب :
اگر کسی پروڈکٹ کے حلال یا حرام ہونے کے متعلق کوئی خبر سامنےآتی ہےیا سوشل میڈیاپر ایسی کوئی خبر گردش کرتی ہے تو ایسی خبر کو شریعت کے معیارپر پرکھا جائے گا اور اس کے بعد ہی اس کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس سلسلے میں صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ کوئی خبر ہر ایک کی زبان پر ہے اورلاکھوں لوگ اس کے بیان کرنے والے ہیں ،  بلکہ اس خبر کے اصل ماخذ کو دیکھا جائے گا۔اگر خبر کا اصل ماخذ  (جسے منتہائے سند)  کہتے ہیں ،غیر مقبول ہو تو ایسی خبر کا اعتبارنہیں ہوگا ،اگر چہ ایسی خبر لوگوں میں کافی مشہور ہو؛ کیوں کہ جب دلیل اورسند نہ ہوتو محض  خبروں کے چلن  اورعوامی شہرت کا کوئی اعتبار نہیں ۔