حرزِ ابی دجانہ کی حقیقت
سوال :
حضرت محمد رسول الله خاتم النبیین ﷺ کا جنات کے نام خط (عہد نامہ تہدیدی) کی کوئی حقیقت ہے؟
جواب :
جنات کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ''حرز ابی دجانہ'' کے نام سے علامہ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنات کی طرف سے اِیذا رسانی کی شکایت کی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنات کے نام خط لکھواکر انہیں دے دیا،اس طرح وہ جنات کے شر سے محفوظ ہوگئے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی:باب ما یذکر من حرز أبی دجانۃ (7/ 118)، ط:دار الکتب العلمیۃ)
اس روایت پراور اس طرح کے دیگر روایات کی تحقیق اوران پر تفصیلی کلام کے لیے ہمارے ادارےجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ( www.banuri.edu.pk)پر" روایتِ حرزِ ابی دجانہؓ کی تحقیق" سرچ کرکے ملاحظہ کرسکتے ہیں۔اکابر کرام میں سے حکیم الامت حضرت مولانا تھانویؒ نے "بہشتی زیور" میں، علامہ محمد قطب الدین دہلویؒ نے "ظفر جلیل شرح حصن حصین" میں حرز ابی دجانہؓ کا ذکر کیا ہے، جب کہ حضرت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی اسے نہایت مجرب بتایا ہے۔حضرت علامہ سید انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کے" گنجینہ اسرار" میں اورحضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی "تجلیاتِ صفدر" میں بھی جنات سے حفاظت کے لیے اس خط کو نقل کیا گیا ہے۔حاصل یہ ہے کہ جنات سے حفاظت کے لیے اس کا استعمال جائز ہے۔