دوسری شادی کا حکم
سوال:۔میری شادی کو دس سال کا عرصہ ہوگیا ہے مگر اولاد نہیں ہے۔بیوی میری جائز خواہش پوری کرنے سے بھی قاصر رہتی ہے اوررویہ بھی میرے ساتھ انتہائی نامناسب بلکہ ناقابل برداشت حدتک برا رہتاہے۔میں صبر سے کام لیتا رہاہوں مگر اولاد کی شدید خواہش ہے اورازدواجی زندگی کا لطف بھی اٹھانا چاہتاہوں مگر بیوی دوسرے نکاح کی اجازت دینے کی قطعا روادار نہیں ہے حالانکہ میں بہت سہولت سے دونوں بیویوں کے حقوق پورے کرسکتا ہوں ۔کیا ان حالات میں میرا دوسرانکاح کرنا جائز ہے؟اگر قانون مجھ پر کوئی پابندی عائد کرتا ہے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟
جواب:۔ شریعت کی رو سے کہ آپ کے لیے دوسرا نکاح کرنا جائز ہے ۔ظاہر ہے کہ قانون کو شریعت پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے ۔اس طرح کے قانون کی خلاف ورزی سے آپ گناہ گار نہیں ہوں گے بلکہ جنہوں نے یہ قانون بنایا ہے یا جو یہ قانون آپ پر نافذ کریں گے وہ گناہ گار ہوں گے ۔