جبرانکاح کا حکم



سوال:۔مجھے شرعی تحقیق درکارہےکہ اگرجبرابالغ لڑکے یا لڑکی  کانکاح کردیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے یانہیں ؟ 
 
جواب:۔ بلوغت کے حصول کے بعد لڑکے اور لڑکی پر ولی  کی ولایت انتہاپذیر ہوجاتی ہے،اس لیے ولی کو جبر کے ذریعے بالغ لڑکے یا لڑکے کو کسی خاص رشتے پر مجبور کرنا درست نہیں ،دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی چاہیے کو وہ خود سے کوئی رشتہ منتخب کرنے کے بجائے اولیاء کے انتخاب کردہ  رشتے کو ترجیح دیں کیونکہ ان کی محبت وشفقت اور تجربہ ومشاہدہ سے امید یہی ہے کہ انہوں نے اولاد کے مفادات کا پورا لحاظ اوررعایت رکھی ہوگی۔اس کے باوجود اگر لڑکا یا لڑکی کسی رشتہ پردل سے رضامندنہ ہو مگر والدین کی ناراضگی یا دھمکی یا جبر سے مجبور ہوکر اس نے نکاح کے  وقت ہاں کہہ دی تو نکاح منعقد ہوجائے گا ،کیونکہ نکاح کے انعقاد کا تعلق نکاح کے وقت  رضامندی کے اظہار سے ہے۔اس سلسلے میں بنیاد یہ حدیث ہے کہ :''ثلاث جدھن جد وہزلھن جد۔''امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے اور تمام اہل علم کا اس کےموافق عمل ذکر کیا ہے۔ اس حدیث کی روسے مذاق کے طور پر بھی ایجاب وقبول کے الفاظ صحت نکاح کے لیے کافی ہیں تو اکراہ واجبار کی صورت میں بطریق اولی کافی ہوں گے کیونکہ مذاق کی صورت میں جانبین کا سرے سے رشتہ کاکوئی ارادہ ہی  نہیں ہوتا ہے اور گفتگو محض مذاق ، دل لگی اور تفریح طبع کے طور پر ہوتی ہے جب کہ جبر کی صورت میں  ایک فریق تو پورے طور پر کامل اور سنجیدہ ہوتا ہی ہے ،دوسرا فریق بھی اپنے نفع ونقصان کو سوچ کر ہی فیصلہ کرتا ہے اور بادل نخواستہ  ہی سہی بڑے مضرت کے بنسبت کم تر مضرت پرراضی  ہوجاتا ہے۔بہرحال جبر واکراہ کے طورپر کیا گیا نکاح درست ہے۔اگر تفصیلی دلائل درکار ہوں تو شروح حدیث اورکتب فقہ  کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے۔