اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کاقبول اسلام(مجوزہ بل)



اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کاقبول اسلام(مجوزہ بل)
 
(گزشتہ سے پیوستہ )ایک طرف اگر یہ حقیقت ہےکہ بلاضرورت قانون سازی  کردی جاتی ہے تو دوسری طرف یہ مصیبت ہے کہ ہر برائی کا علاج قانون  کے نفاذ میں ڈھونڈا جاتا ہے اور قانون سازی سے پہلے کے لازمی مراحل  عوامی آگہی،اصلاح معاشرہ ،قانون کے  لیے سازگار ماحول وغیرہ نظرانداز کردیے جاتے ہیں،دونوں صورتوں میں نتیجہ قوانین کی ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔چنانچہ آج مشاہدہ ہے کہ قوانین کی کثرت ہے مگر ان کی منفعت نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہرحال یہ کچھ مختصر معروضات تھیں  جو مجوزہ قانون  کےحوالے سے  تھیں۔میری اس سلسلے میں وزارت مذہبی أمور سےگزارش ہےکہ وہ ایسی قانون سازی روکنے میں اپنا کردار اداکرے ۔اسلامی نظریاتی کونسل   بھی دستور کے تحت حاصل اختیار کے تحت   اس مجوزہ بل  کو غیر  شرعی ہونے کی وجہ سے مستردکرے۔اسمبلی کے اراکین نے اگر  اس سلسلے میں سیاسی مصلحت  کا خیال رکھا یا کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول کیا تو عنداللہ مجرم قرار دیے جائیں گے  اورپاکستانی عوام کے غیص وغضب کا شکار ہوں گے۔خدارا! اسلام کا دروازہ غیر مسلموں پر اورآسمانی رحمتوں کے دروازے اس   ملک پربند مت کیجیے۔