گری پڑی چیز کا حکم
سوال :۔مجھے اپنی دکان کے باہر ایک بٹوہ پڑا ہوا ملا ہے، اور اس میں دوہزار روپے ہیں، کوئی ایسی شناخت موجود نہیں ہے جس سے میں مالک تک پہنچ سکوں، مجھے ان پیسوں کا کیا کرنا چاہیے؟
جواب:۔اس رقم کاحکم لقطہ(یعنی گری پڑی چیز کے ملنے) کاہے۔لقطہ کاحکم یہ ہے کہ اولاً اس کے مالک کوتلاش کیاجائے، اگر اس چیزکامالک یامالک کے ورثاء نہ ملیں تواسے مالک کی طرف سے فقراء پرصدقہ کردیاجائے،البتہ جس شخص کووہ چیزملی ہے اگروہ خود محتاج ہوتواپنے استعمال میں بھی لاسکتاہے۔لہذا اگرمذکورہ رقم کے مالک کے ملنے کی امیدنہ ہو تواسے مالک کی طرف سے صدقہ کردیں یا خود استعمال کرلیں اگر آپ محتاج ہیں ۔ (ردالمحتار،کتاب اللقطۃ،4/279،ط:سعید-الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب اللقطۃ،2/289،ط:رشیدیہ)