رشتے سے پہلے لڑکی کو دیکھنے کا حکم
سوال:۔میں تعلیم یافتہ غیر شدہ نوجوان ہوں۔ابھی رشتے کی بات چل رہی ہے۔میں الحمدللہ اسلامی احکام کی پابندی کرتا ہوں اورخاص طورپر نظروں کی حفاظت کرتا ہوں۔جہاں میرا رشتہ کا ارادہ ہے وہ بھی دین دارگھرانہ ہے۔میرے علم میں آیا ہے کہ رشتے کرنے سے قبل اپنی ہونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے۔میں نے ایک صاحب علم سے پوچھا تو مجھے تسلی ہوگئی کہ واقعی ایسا حکم موجود ہے۔مجھے اس بارے میں تفصیلی آگاہ کردیں کہ مجھے اومیرے گھر والوں کو کن باتوں کاخیال رکھنا چاہیے۔میں نہیں چاہتا کہ کسی کی دل آزاری ہو۔
جواب:۔ اس بارے میں اسلامی احکام کا حاصل یہ ہے کہ:
۱۔جب کسی جگہ نکاح کا ارادہ ہوتو نکاح کا پیغام دینے سے پہلے سے قبل لڑکی کو دیکھ لیا جائے تاکہ اگر دیکھنے کے بعد رشتہ سمجھ میں نہ آئے تو لڑکی اور اس کے خاندان کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔
۲۔ دیکھنے کی اجازت اس وقت ہے جب نکاح کا پختہ ارادہ ہو،محض سرسری خیال نہ ہو۔
۳۔ اگر چھپ کر دیکھ لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
۴۔ ایک نظر کافی ہوجائے تو دوسری نگاہ نہ ڈالے۔
۵۔ اگر خود نہ دیکھے تو اقارب عورتوں کے ذریعے معلوم کرالیا جائے مگر اجنبی مردوں کے ذریعےسے ایسا نہ کیا جائے۔
۶۔ مخطوبہ یعنی جس کو پیغام نکاح دیا ہے اس کے ساتھ خلوت ہرگزاختیارنہ کرے۔
۷۔ اگررشتہ پسند نہ آئے تو خاموشی اختیارکرے۔
ایک نظر دیکھنے کی اجازت جس طرح لڑکے کو ہے اسی طرح لڑکی کو بھی حاصل ہے ۔مقصد اس حکم کا یہ ہے کہ نکاح کا رشتہ پائیدار رہے مگر منگنی سے پہلے اورمنگنی ہوجانے کے بعد جب نکاح نہ ہواہو ،لڑکا اورلڑکی ایک دوسرے کے لیے غیر محرم رہتے ہیں اور ان کا آپس میں بات چیت کرنا ،ملاقات کرنا وغیرہ ناجائز رہتا ہے۔