لفظ ''آمین'' کا سماوی اَدیان میں استعمال
سوال:
"آمین" کا لفظ شریعتِ محمدی کے علاوہ دیگر شریعتوں میں کن معنی میں استعمال ہوا ہے؟
جواب:
"آمین" اصلاً عربی لفظ ہے، اس کے مختلف معانی ہیں :
(1) "اَللّٰھُمَّ اسْتَجِبْ لَنَا" (اے اللہ ہماری دعا قبول فرما)۔
(2) "فَلْيَكُنْ كَذٰلِكَ" ( اس طرح ہونا چاہیے)
(3) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا "آمین" کا معنی کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : "رَبِّ افْعَلْ" اس کا معنی ہے: ”اے میرے رب ! تو (ایسا) کر“ ۔
(4) حضرت مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ”یہ کلمہ دعا کے لیے قوت ہے اور برکت طلب کرنے کے لیے ہے“ ۔
(5) امام ترمذی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس کا معنی ہے: ”ہماری امیدوں کو نامراد نہ کر۔“
شریعتِ اسلامیہ میں اس کا استعمال عام ہے اور اب مختلف دیگر زبانوں میں بھی رائج ہے، بائبل میں بھی یہ لفظ عبرانی اوریونانی میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔پرانے عہدنامے میں یہ ''ایسا ہی ہے ''اور''ایسا ہی ہو '' اور''یہ سچ ہے'' کے معنی میں وارد ہوا ہے۔ (سلاطین ۳۶:۱یرمیاہ۶:۲۸) قسم اورعباد ت کے طورپر بھی استعمال ہوا ہے، جس کے لیے گنتی،استثناہ،تواریخ،نحمیاہ اورزبور کے ابواب دیکھے جاسکتے ہیں۔نئے عہدنامہ میں خطوط میں یہ شخصی اورجماعتی دعاؤں کے اختتام پر استعمال ہوا ہے۔ (کرنتھیوں۱۶:۳۶؛مکاشفہ۱۴:۵)اس کے علاوہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے لقب کے طورپر ابھی اس کا استعمال ملتا ہے۔ (کرنتھیوں۲۰:۱)
تاہم بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”آمین“اہلِ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے، اور یہ کلمہ ہم سے پہلے صرف موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو عطا کیا گیا تھا، علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ”خصائصِ کبریٰ“ میں ’’مسندِ حارث ‘‘ کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ ” اور مجھے آمین عطاکیا گیا، اوریہ تم سے پہلے کسی اور کو عطا نہیں کیا گیا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ہارون علیہ السلام کو یہ عطا کیا تھا، کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا پر آمین کہتے تھے۔“ اسی طرح ’’شرح مواہب‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً نقل ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین ایسی چیزیں عطا فرمائی ہیں جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں فرمائیں، وہ یہ ہیں : اہلِ جنت کا سلام، فرشتوں کی صفیں اور آمین، مگر موسیٰ اور ہارون کو آمین کا کلمہ دیا گیا تھا۔“ ابن عربی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ : ”یہ کلمہ ہم سے پہلے امتوں کے لیے نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ یہ ہمیں عطا فرمایا ہے۔“
اسی بنا پر محققین کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے کہ ”آمین“ اس امت کی خصوصیت ہے، حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے معارف القرآن میں لکھا ہے کہ نصاریٰ وغیرہ کی کتب میں جو "آمین" کا ذکر ہے، وہ اہلِ اسلام سے لیا گیا ہے۔ ( معارف السنن 2/405۔ تفسير القرطبي (1 / 128)۔ الموسوعة الفقهية الكويتية (1 / 110)۔معارف القرآن للکاندھلوی 1/35)