طلاق کے الفاظ میں نیت کی ضرورت کب ہے؟
سوال:۔ میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوں ۔میری پریکٹس عائلی معاملات میں زیادہ ہے۔میں مختصر دورانیہ کا عالم کا کورس بھی کیا ہے اورکچھ دنوں سے میں نے فقہ اسلامی کا مطالعہ شروع کیا ہے ۔دوران مطالعہ علم میں آیا کہ نکاح ایسے الفاظ سے ختم جو صریح ہوں یا کنایہ ہوں۔پھر کچھ میں نیت کی ضرورت ہے اور کچھ میں نہیں ہے۔ میں کنفیوزن کا شکار ہوگیا ہوں کہ کب شوہر کی نیت کی ضرورت ہے ورکب نہیں ہے؟
جواب:۔(۱)اگرطلاق کا لفظ صریح ہے تو اس میں طلاق کی نیت کی ضرورت نہیں ہے۔(۲)اگر لفظ صریح نہیں ہے مگر شوہر کی نیت طلاق کی ہے تو پھر بھی طلاق واقع ہے۔(۳)اگر لفظ بھی صریح نہیں ہے اور شوہر کی نیت بھی طلاق کی نہیں ہے یعنی شوہر نے کنایہ لفظ استعمال کیا ہے تو پھر صرف دوصورتوں میں کنایہ لفظ استعمال کرنے کی وجہ سے طلاق واقع ہوتی ہے۔(۳)ایک یہ کہ شوہر نے حالت غضب میں کنایہ استعمال کیا ہو۔(۴)دوسرے یہ کہ حالت مذاکرہ میں شوہر نے ایسا کنایہ استعمال کیا ہوجو سب وشتم یا جواب کی صلاحیت رکھتا ہو۔نیت کے بارے میں طلاق کےتمام مسائل کاحاصل یہی چار صورتیں ہیں ۔