خانگی نزاعات میں مصالحت یا فوری عدالت سے رجوع؟
سوال:
میاں بیوی میں اختلاف ہوجاتا ہے،جس کے بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔اس بارے میں بہتر کیا ہے،عدالت سے فیصلہ یاصلح ؟میری بیوی معمولی اختلاف پر عدالت پہنچی اورعدالت نے اس حق میں ڈگری دے دی۔
جواب :
میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے تو اوّلًا انہیں چاہیے کہ خود ہی صلح صفائی کرلیں، اگر اس کی کوئی صورت نہ بن سکے تو دونوں کے خاندان میں سے کم از کم ایک ایک فرد مقرر کیا جائے جو ان کے درمیان مصالحتی کردار ادا کریں، اگر اس پنچائیت کا مقصد اِصلاح ہوگا تو میاں بیوی کے درمیان موافقت کی ضرور کوئی صورت نکل آئے گی۔ (النساء:35)
اور اگر صلح کی صورت نہ بنے یا جدائی ہی مقصود ہو تو عدالت تک معاملہ لے جانا صاحبِ معاملہ کا حق ہے، بہرصورت عدالت سے فیصلہ آخری صورت میں ہونا چاہیے؛ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے قاضیوں کے لیے یہ فرمان جاری فرمادیا تھا کہ: "ردّوا القضاء بین ذوي الأرحام حتی یصطلحوا؛ فإنّ فصل القضاء یورث الضغائن." (معین الحکام، ص:214)
ترجمہ: رشتہ داروں کے مقدمات کو انہیں میں واپس کردو؛ تاکہ وہ خود برادری کی امداد سے آپس میں صلح کی صورت نکال لیں؛ کیوں کہ قاضی کا فیصلہ دلوں میں کینہ و عداوت پیدا ہونے کا سبب ہوتاہے۔ (بحوالہ معارف القرآن، مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ، سورۃ النساء: 35، جلد 2 ص:405، ط: ادارۃ المعارف، کراچی)
باقی عدالت کی جانب سے یک طرفہ خلع کی ڈگری دینے سے نکاح ختم نہیں ہوگا۔