سورہ واقعہ پڑھنے کے باوجود صحابہ کرام فقروفاقہ کا شکار کیوں تھے؟



سوال:۔آپ سے سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام  غریب اورتنگ دست تھے یا نہیں ؟اگر آپ کا سوال ہاں میں ہواورہاں میں ہونا چاہیے تو کیا وہ سورہ واقعہ نہیں پڑھتے تھے اور اگر پڑھتے تھے تو پھر وہ فقروفاقے کا شکار کیوں رہتے تھے؟
 
جواب:۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں غریب اورمالدار دونوں طرح کے تھے ۔ سب کے سب نادار اورمفلس نہیں تھے۔ایسے بہت سے صحابہ بھی تھے جن کو اللہ پاک نہیں خوب مال ودولت سے نوازا تھا ۔حضرت سیدنا عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہم اجمعین اس کی مشہور مثالیں ہیں۔جن صحابہ کے فقروفاقہ کے واقعات مشہور ہیں وہ عموما ہجرت سے پہلے کے ہیں۔ہجرت کے بعد اللہ پاک نے انہیں وسعت  اورتونگری عطا فرمادی تھی۔اس کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا فقر وفاقہ بڑی حد تک اختیاری تھا،انہوں اپنے محبوب اور قائد جناب رسول اللہﷺ کی طرح مال ودولت ،جاہ ومنصب اوردنیوی عیش وعشرت کو پسند ہی نہیں  کیا،وہ اگر کماتے بھی تو خرچ کرنے کے لیے کماتے تھے ۔اگر ان کے پاس مال آجاتا تو وہ اسے راہ خدا میں صدقہ فرمادیتے تھے  مثلاغزوہ خیبر کے بعد مسلمانوں کو  وسعت اورفراوانی ہوگئی تھی تو آنحضرت ﷺ اپنی  ازواج  کے ہاں سال بھرکا راشن ڈلوادیا کرتے تھے مگر ازواج بھی آپ علیہ السلام کی ازواج تھیں چنانچہ وہ چند دنوں میں سارا راشن صدقہ فرمادیا کرتی تھیں  اور اس کے بعد وہی فقروفاقے کی زندگی گزارتی تھیں ۔ سورہ واقعہ کی فضیلت کے بارے میں جو آپ نے دریافت فرمایا ہے اس کی تشریح میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا ،اللہ پاک اس شخص کو قناعت کی دولت عطا فرمائیں گے ،جس کے بعد وہ دنیا کے مال و دولت سے مستغنی ہوجائے گا، اور وہ اس پر راضی ہوجائے گا،یا  اس کو ایسا رزق عطا فرمائیں  گے، جس کے ذریعہ اس شخص کو  عبادت  کرنے کی قدرت و طاقت حاصل  ہوگی ۔