خارجی تحریک کی نوعیت سیاسی تھی یا مذہبی
سوال:۔اسلام کے آغاز میں خوارج کا فتنہ گزرا ہے۔آپ اس سے بخوبی واقف ہوں گے۔ اس فتنے کےمقاصد سیاسی تھے یا دینی اور مذہبی؟براہ کرم اپنی رائے سے آگاہ کیجیے۔ماسٹرضیاء الدین
خارجی تحریک کے بارے میں ایک خیال یہ ہےکہ ابتدا میں یہ ایک دینی فرقہ تھا۔بعضوں نے اسے اپنے آغاز میں ایک سیاسی تحریک قراردیا ہے جس نے بعدمیں مذہبی رنگ اختیار کرلیاتھا۔ایک رائے یہ ہے کہ یہ تحریک جتنی سیاسی تھی اتنی ہی مذہبی بھی تھی کیونکہ اس دور میں سیاست کو مذہب سے الگ رکھناممکن نہ تھا۔اس تحریک کے تشکیلی عناصر میں سے اعراب اس کے سیاسی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں جب کہ قراء اسے مذہبی رنگ عطاکرتے ہیں،اس لیےاسے سیاست یا مذہب کے الگ خانوں میں نہیں بانٹاجاسکتا لیکن زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہےکہ ایک سیاسی تحریک تھی اوراس کے مقاصد سیاسی تھے البتہ مذہبی لبادہ انہوں نے ضروراوڑھ رکھا تھا جس کی ایک وجہ تو اس کاتشکیلی عنصر تھا کہ اس میں قراء کی بڑی تعداد شامل تھی اوراصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت کوئی تحریک مذہب کا نام لیے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی تھی چنانچہ مسلمانو ں کی تاریخ شاہد ہے کہ جب کوئی تحریک اٹھی ہوئی ہے انہوں نے مذہب کانام ضروراستعمال کیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے جو تحریک حکومت کے حصول کے لیے ہو یا جس کا مقصد طرز حکومت بدلنا ہو وہ سیاسی ہی کہلاتی ہے۔اس تحریک کی سیاسی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مذہبی نوعیت کا اختلاف فکر ی ونظری نوعیت کااختلافہوتاہے۔عملی اختلاف نہ ہونے کی وجہ سے اس میں جنگ جدال اور قتل وقتال کی نوبت بہت کم آتی ہے جبکہ فتنہ خارجیت نے بے دریغ مسلمانوں کاخون بہایا اور عالم اسلام کے قلب میں خون کی ہولی کھیلی اور کئی صدیوں تک اسلام اور مسلمانوں کو سخت اضطراب اور ہیجانی کیفیت میں مبتلارکھا۔بہرحال اس تحریک کے سیاسی یا مذہبی ہونے کے بارے میں آراء مختلف ہیں مگر جیسا کہ ابتدا میں بیان ہوا کہ زیادہ مضبوط یہ موقف معلوم ہوتا ہے کہ خارجی تحریک کی نوعیت مذہبی تھی۔