بچوں کوملنے والے تحائف کا حکم



سوال:۔ایک مسئلہ اہم بھی ہے اور عام بھی ہے، اس کے متعلق دریافت کرنا ہے۔  مختلف تقریبات میں یا مختلف مواقع پر خاندان کے لوگ یا گھر والے چھوٹے بچوں کو کوئی تحفہ ، نقدی  سامانیا کپڑے دیتے ہیں تو ان چیزوں کامالک کون ہوگا۔آیا یہ تحائف والدین کے ہوں گے یا بچے ہی کے ہوں گے اور اسی کے کام اور استعمال میں لانے ضروری ہیں؟ (محمد قاسم)
 
جواب :۔ نابالغ  بچوں کوجو تحفے تحائف ملتے ہیں  اگر وہ ایسی چیزیں ہوں  جو بچوں کے استعمال کی ہوں  یا  ان کی ضرورت کے موافق ہوں   تو ایسی چیزیںبچوں ہی کی ملکیت ہوں گی اور  والدین کے لیے ان چیزوں  کو اپنے کام میں لانایا  کسی اور کو دینا جائز نہیں  ہوگا۔اگر بچوں کے استعمال اور ضرورت کے علاوہ کوئی اور چیزیں ہوں  تو اس میں عرف ورواج کا اعتبار ہوگا ۔ اگر عرف یہ ہو کہ تحفے تحائف ماں باپ کو دینا مقصودہوتے ہیں ،صرف  ظاہراً  بچوں کے ہاتھ میں دئیے جاتے ہوں  جیسا کہ عام طورپر عقیقہ اور ختنہ وغیرہ کی تقاریب میں ہوتا ہے تو ان چیزوں کے مالک والدین ہی ہوں گے اوروہ اس میں جو چاہیں تصرف کرسکیں گے، پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ  اگر وہ چیزیں  والدہ کے رشتہ داروں نے دیں ہیں تو  والدہ ان کی مالک ہےاور اگروالد کے رشتہ داروں نے دی ہیں تو  والد اس کا مالک ہے۔ اگر عرف یہ ہو کہ اس طرح کی تقریبات میں وہ چیزیں بچوں ہی کو دی جاتی ہیں  تو پھر اس کا مالک بچہ ہی ہوگا۔ اگر  کسی موقع پر  ہدیہ دینے والے صراحت کردیں کہ   یہ بچہ کے لیے یا اس کی والدہ یا والد کے لیے ہے   تو جس کی صراحت کریں گے وہی اس کا مالک ہوگا۔(شامی 5/ 696،  کتاب الھبۃ، ط: سعید)