غزوہ ہند کے متعلق



سوال :۔غزوہ ہند کے متعلق جو روایات ہیں ا س کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں  ایسی روایات  موضوع  اور من گھڑت ہیں؟ اگر آپ ایک دوحدیثیں مع ترجمہ  اور حکم کے نقل کردیں تو میں بے حد مشکورہوں گا۔
 
جواب:۔ أئمہ محدثین اور اکابر مؤرخین نے غزوہ ہند سے متعلق احادیث کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے جواس بات کی صریح دلیل ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق احادیث من گھڑت اور موضوع  نہیں ہیں۔ علمأ نےاپنی کتب میں بشارت اور قیامت سے قبل واقع ہونے والی علامت کے طور پر انہیں نقل کیا ہے ۔ خاص کر امام نسائی جنہوں نے  سنن نسائی  میں غزوہ ہند پر مکمل باب باندھا ہے ۔ امام بخاری کے استاد امام نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں غزوہ ہند کے متعلق روایات کو جمع کیا ہے ۔ امام  احمد نے اپنی مسند میں، امام بخاری نے تاریخ کبیر میں، اما م بیہقی  نے  سنن الکبری اور دلائل النبوۃ میں، امام حاکم نے مستدرک حاکم میں، امام طبرانی نے معجم الاوسط میں، امام سیوطی نے جمع الجوامع میں، امام  نووی نے  فیض القدیر میں، امام ذہبی نےتاریخ الاسلام میں، امام بغدادی نے تاریخ بغداد میں،امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں  غزوہ ہند سے متعلق  احادیث ذکر کی ہیں۔اس سے واضح ہے کہ ان روایات کو موضوع  قراردینا درست نہیں ہے۔غزوہ ہند کے متعلق مروی احادیث  میں چند درج ذیل ہیں:
۱۔  حدثنا أبو النضر حدثنا بقية حدثنا عبد الله بن سالم وأبو بكر بن الوليد الزبيدي عن محمد بن الوليد الزبيدي عن لقمان بن عامر الوصابي عن عبد الأعلى بن عدي البهراني عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال عصابتان من أمتي أحرزهم الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليه السلام.
مسنداحمد، باب مسندالانصار من حديث ثوبان 37/81، رقم: 22396 الرساله، سنن النسائي لشرح السيوطي، باب غزوة الهند 5،6/350 رقم 3175 دارالمعرفة، التاريخ الكبير للبخاري، باب عبدالاعلي 5/344 رقم: 7818،1747 العلمية.
ترجمہ : ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے غلام تھے ان سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالی دوزخ کے عذاب سے بچائے گا، ان میں سے ایک ہندوستان مین جہاد کرے گا، دوسرا  حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
یہ حدیث حسن ہے ، البتہ یہ سند بقیۃ بن الولید کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن  اس کا متابع موجود ہے۔ سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں سوائے ابوبکر بن ولید کے کہ وہ مجہول الحال ہے، لیکن  عبد اللہ بن سالم جو کہ ثقہ ہے  انہوں نے ابوبکر بن ولید کی متابعت کی ہے۔ مسند احمد ۳۷/81.
غزوہ ہند کا ذکر کئی احادیث میں موجود ہے البتہ اس غزوہ کے حقیقی مصداق کے بارے میں کوئی صریح نص  موجود نہیں ہے ، علامہ سندھی نے حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ حدیث میں عام مسلمانوں سے غزوہ ہند کے متعلق وعدہ کیا گیا ہے نہ کہ مسلمانوں کے کسی خاص گروہ سے ،اسی وجہ سے بعض حضرات نے اپنے فہم کی بنیاد پر مختلف مصداق ٹھہرائے ہیں ۔بلاذری کی تحقیق کے مطابق ہندوستان پر مہم جوئی کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا۔ اس کے بعدحضرت  عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض مسلمان جاسوسوں کو ہند پر حملہ سے قبل وہاں  کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا البتہ جنگ کی نوبت نہیں آئی البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جنگ ہوئی جس میں آپ کو کامیابی ہوئی۔فتوح البلدان: ص۴۲۰، ناشر: مطبعہ مصریہ ازہر۔بعض حضرات  نے محمد بن قاسم اور محمود سبکتگین کی ہندوستان  میں جنگوں کو غزوہ ہند کا مصداق ٹھہرایا ہے(فیض السمائی: ۳۶۰،۲، مکتبۃ الشیخ) راجح قول یہ ہے کہ ابھی ان روایات کا مصداق پیش نہیں آیا بلکہ حضرت امام مہدی اور حضر ت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں اس معرکہ آرائی کا تحقق ہوگا جیسا کہ کتاب الفتن میں ہے کہ ایک جماعت ہندوستان میں جہاد کرے گی اور اس کو فتح نصیب ہوگی اور جب وہ مال غنیمت لے کر واپس لوٹیں گی تو حضرت عیسی علیہ السلام کا ملک شام میں نزول ہوچکا ہوگا۔(کتاب الفتن نعیم بن حماد: غزوہ ہند، ص۴۰۹، مکتبۃ التوحید)