حرام پروڈکٹ کاحلال نام رکھنا یا اس کابرعکس کرنا



حرام پروڈکٹ کاحلال نام رکھنا یا اس کابرعکس کرنا
جواب:۔حلال وحرام خالص خدائی منصب ہے ۔شریعت کے علاوہ کسی کویہ حق نہیں کہ وہ حلال کوحرام یا حرام کو حلال قراردے۔اگر کوئی حرام کو حلال  کہتا ہے  جب کہ:
۱۔ وہ اپنے عقیدے میں بھی اسے حلال سمجھتا ہو، اور 
۲۔ حرام حرام لعینہ ہو،اور
۳۔ اس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو 
تو وہ کافرہوجاتا ہے ۔
لیکن اگرحرمت دلیل قطعی سے ثابت نہ ہو جیسے مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری مخلوقات، یا
حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو لیکن حرام ،حرام لعینہ نہ ہوبلکہ لغیرہ ہو جیسے مال مسروقہ یا مغصوبہ ، یا
حرام تو حرام لعینہ ہومگر حلت کاعقیدہ نہ ہوبلکہ حلال کہنے سے:
  شے کی کھپت اورتجارت کافروغ مقصد ہو،یا
حرام کی حرمت سے واقف نہ ہو،یا
حکم  کو اپنی سستی اوربدعملی کی وجہ سے معمولی اورہلکا سمجھاہو ،مگراسہتزاء اورتمسخر مقصود نہ ہو
 تو وہ سخت گناہ گارضرور ہے مگر کافر نہیں ہے۔
جوحکم حرام کابیان ہوا وہی حکم ان ہی شرائط کے ساتھ حلال کابھی ہےیعنی ایک شخص اگرحلال کے متعلق حرام ہونے کاعقیدہ رکھتا ہے اورحلال ایسا ہے جو بذات خود حلال ہے اورجن دلائل سے اس کاحلال ہوناثابت ہے وہ شک وشبہ سے بالا بھی ہیں اوراپنے مطلب ومفہوم میں بالکل صاف بھی ہیں تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے لیکن اگر ان شرائط میں سےکوئی شرط مفقو د ہے مثلا وہ حلال کو حلال ہی سمجھتا ہے مگر کسی مادی غرض  کی وجہ سے اسے حرام کہتا ہے  تووہ سخت گناہ گارہے مگردائرہ اسلام سے خارج نہیں ہے۔
حرام کاحلال نام رکھنا یاحلال کوحرام سے موسوم کرناناجائزوحرام ہے البتہ کوئی پروڈکٹ  حلال ہے یا حرام  ،اس کامدار الفاظ اورتعبیرات پر نہیں ہے بلکہ شے کی حقیقت پر ہے۔اگر کوئی شے حلال ہے تووہ حلال ہی رہے گی ،اگر چہ اسے حرام نام  سے موسوم کیا جائے اوراگر کوئی شے حرام ہے تو نام  بدلنے سے یا حلال نام  رکھنےسے وہ حلال نہیں ہوجائے گی ۔البحر الرائق شرح كنز الدقائق ۵؍۱۲۲ط:رشیدیہ، حاشية رد المختار على الدر المختار - (1 / 81)